وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعظم کو ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے مجوزہ فیصلے پر نظرثانی کے لیے خط!

خط میں کہا گیا ہے کہ ⬅️ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ عوامی تشویش کا باعث ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحفظات کا اظہار کر چکی ہے،⬅️ خیبرپختونخوا حکومت منصفانہ ٹیکس نظام کی حامی ہے، مسئلہ ٹیکس نہیں بلکہ انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے کیے گئے وعدوں سے انحراف ہے،⬅️ ضم اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام وفاق کی جانب سے مالی، آئینی اور ادارہ جاتی معاونت کے واضح وعدوں کے ساتھ عمل میں آیا تھا، ⬅️ انضمام کے وقت کیے گئے وفاقی وعدے آج بھی پورے نہیں ہوئے، خیبرپختونخوا انضمام کا تمام اضافی بوجھ تنہا اٹھا رہا ہے،⬅️ ضم اضلاع کے لیے این ایف سی میں طے شدہ حصہ تاحال خیبرپختونخوا کو فراہم نہیں کیا گیا،⬅️ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کے طور پر بے مثال انسانی، معاشی اور انفراسٹرکچر نقصانات برداشت کر چکا ہے،⬅️ صوبہ امن و امان، انسداد دہشت گردی، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر پر مسلسل بھاری مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے،⬅️ افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش نے ضم اضلاع کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا،⬅️ پسماندگی، ناکافی انفراسٹرکچر اور توانائی کے مسائل آج بھی خطے کی معاشی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں،⬅️ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس استثنیٰ سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے دیا گیا تھا،⬅️ جن معاشی و سماجی حالات کی بنیاد پر ٹیکس استثنیٰ دیا گیا تھا وہ آج بھی بڑی حد تک برقرار ہیں،⬅️ وفاقی وعدوں کی تکمیل سے قبل ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی، معاشی بحالی میں رکاوٹ اور مقامی کاروبار پر اضافی بوجھ کا سبب بنے گا،⬅️ وفاقی حکومت نے مجوزہ ٹیکس اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی،⬅️ متعلقہ کمیٹی محدود اجلاسوں کے باوجود مجوزہ ٹیکس اقدامات پر کوئی حتمی سفارشات مرتب نہ کر سکی،⬅️ صوبائی حکومت اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا،⬅️ حساس سرحدی علاقوں میں ایسے فیصلوں کے امن و امان پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں.⬅️ خیبرپختونخوا اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مجوزہ ٹیکس اقدامات مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے،⬅️ وفاقی حکومت ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کا فیصلہ فوری طور پر مؤخر کیا جائے،⬅️ وفاقی وعدوں کی تکمیل اور ٹیکس استثنیٰ کی بنیاد بننے والے حالات میں واضح بہتری آنے تک موجودہ ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھا جائے،⬅️ وفاقی حکومت انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کا احترام کرتے ہوئے مثبت فیصلہ کرے گی، امید ہے.

جواب دیں

Back to top button