ہزارہ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، گورننس اور سروس ڈیلیوری سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی ، ہزارہ سے صوبائی کابینہ ارکان، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ، چیف سیکریٹری، ائی جی پولیس سمیت اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ہزارہ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، گورننس اور سروس ڈیلیوری کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو عوامی خدمت، شفاف طرزِ حکمرانی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے ضلع کولئی پالس اور الائی میں نئے سیاحتی مقامات دریافت کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ہزارہ پیکج کے تحت سیاحت کے فروغ کے لیے 50 کروڑ روپے خصوصی طور پر مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ضرورت کے مطابق ان فنڈز میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کولئی پالس اور بٹگرام کے درمیان چوڑ مالی ویلی اور بلیج ویلی کی حد بندی کے دیرینہ مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے خصوصی کمیشن مقرر کرنے کی ہدایت جاری کی۔ وزیراعلیٰ نے چیف وہِپ کو آئندہ کابینہ اجلاسوں میں باقاعدہ شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی امور میں مؤثر ہم آہنگی اور بروقت فیصلے ناگزیر ہیں۔ مون سون سیزن کے پیش نظر وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے، کنٹیجنسی پلانز پر فوری عملدرآمد اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو بہترین سہولیات اور مثالی مہمان نوازی فراہم کی جائے کیونکہ سیاح خیبرپختونخوا کے مثبت اور نرم تشخص کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے میں سفیر کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے سیاحتی علاقوں میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلانز مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت کی کارکردگی کا معیار صرف پریزنٹیشنز نہیں بلکہ عوام کا اعتماد، اطمینان اور مثبت فیڈبیک ہے۔ ضلعی انتظامیہ عوام کے ساتھ روابط مضبوط کرے، کھلی کچہریوں اور دیگر عوامی سرگرمیوں میں منتخب عوامی نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں مالی سال امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا، جبکہ صوبے میں امن و امان مزید مؤثر بنانے کے لیے پولیس کا بجٹ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہزارہ ڈویژن میں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 139 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ پاکستان سیٹیزن پورٹل پر درج 2,111 شکایات میں سے 1,879 شکایات کامیابی سے نمٹا دی گئی ہیں۔ صوبائی حکومت کی اوپن ڈور پالیسی کے تحت ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 100 سے زائد کھلی کچہریاں منعقد کی جا چکی ہیں۔ ایبٹ آباد اور بٹگرام میں زمینوں کا ریکارڈ 100 فیصد، ہری پور کا 97 فیصد جبکہ مانسہرہ کا 90 فیصد ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے۔ ہزارہ ڈویژن میں 20 پولیس سہولت مراکز قائم ہیں جبکہ مزید 6 مراکز زیرِ تعمیر ہیں۔






