محترم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا وزیر بلدیات سیکرٹری بلدیات
سیکرٹری لوکل گورنمنٹ
سیکرٹری ایل سی بی
ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ
چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ڈبلیو ایس ایس پی
چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈبلیو ایس ایس پی
تمام معزز اراکینِ صوبائی اسمبلی
قومی و صوبائی انسانی حقوق کی تنظیمیں
محترم حضرات
میں محمد ناصر خان افریدی
لیگل کوارڈینیٹر ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ ورکر یونین رجسٹرڈ
خادم ڈبلیو ایس ایس پی ملازمین ایک ملازم ہونے کی حیثیت سے آپ کی خدمت میں یہ گزارش پیش کر رہا ہوں۔ میرا مقصد کسی فرد کی کردار کشی یا کسی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عوامی وسائل کے تحفظ، قانون کی بالادستی، شفاف احتساب اور ملازمین کے آئینی و قانونی حقوق کے لیے توجہ دلانا ہے۔ڈبلیو ایس ایس پی 2014 سے صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام کام کر رہی ہے، مگر بدقسمتی سے اس عرصے کے دوران ملازمین کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر مساوی سلوک، انتظامی بے ضابطگیوں اور بنیادی سروس حقوق سے محرومی کے حوالے سے مسلسل آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔ مختلف یونینز، ملازمین، اخبارات، پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا پر متعدد معاملات سامنے آتے رہے ہیں، مگر ان پر جامع اور شفاف کارروائی نظر نہیں آئی۔اسی لیے ہماری پہلی اور بنیادی گزارش ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کا مکمل مالی، انتظامی اور انسانی وسائل کا آزادانہ فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ تمام حقائق عوام اور حکومت کے سامنے آ سکیں۔درج ذیل معاملات خصوصی توجہ اور تحقیقات کے متقاضی ہیں:
1۔ سال 2026 میں گاڑیوں کی مینٹیننس خراب بیٹریوں اور تقریباً 3000 گیلن پرانے ائل کے استعمال کا معاملہ سامنے آیا۔ اگر انکوائری ہوئی تو اس کی رپورٹ جاری کی جائے، اور اگر نہیں ہوئی تو غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔2۔ اطلاعات کے مطابق ڈبلیو ایس ایس پی کا نیا ہیڈ آفس تقریباً نو کروڑ روپے میں خریدا گیا۔ اس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا کہ عمارت سے دروازے، کھڑکیاں، گارڈر، اینٹیں اور دیگر تعمیراتی مٹیریل غائب یا منتقل ہوا۔ اس تمام مٹیریل کا مکمل ریکارڈ، استعمال اور ذمہ داری عوام اور ملازمین کے سامنے پیش کی جائے۔3۔ ہیڈ آفس کے مختلف مالی اخراجات اور بلوں میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے بھی تحفظات سامنے آئے ہیں۔ ان تمام مالی معاملات کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔4۔ ایک انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ تقریباً 9 ملازمین جن کا تعلق پہلے آر ایم آئی سے بتایا جاتا ہے، ڈبلیو ایس ایس پی کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ میں یہ ملازمین کس کے کہنے پر بھرتی کیے گئے کس منصوبے کے تحت ایک ادارے کے 9 ملازمین دوسرے ادارے کا حصہ بنے اس پورے عمل کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔5۔ بعض ملازمین کا بنیادی کیڈر تبدیل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، حالانکہ بنیادی کیڈر کی تبدیلی ایک قانونی معاملہ ہے۔ اگر ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں تو ان کی قانونی بنیاد واضح کی جائے 6۔ ملازمین کی تنخواہوں سے مسلسل کٹوتیوں کی شکایات موجود ہیں، حالانکہ پالیسی کے مطابق ملازمین کو رخصت کی سہولت حاصل ہے۔ اگر یہ کٹوتیاں قانونی ہیں تو ان کی مکمل وضاحت پیش کی جائے۔اگر نہیں تو ملازمین کے ساتھ استحصال کیوں جاری ہے7۔ حج اور عمرہ کی رخصت پالیسی میں موجود ہونے کے باوجود بعض دفاتر میں ملازمین کو بلا تنخواہ رخصت دیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس غیر یکساں طرزِ عمل کی تحقیقات کی جائیں۔8۔ ایسے ملازمین جنہوں نے تقریباً آٹھ سال تک میونسپل انسپکٹر یا سپروائزر کے طور پر خدمات انجام دیں، انہیں بغیر واضح قانونی کارروائی اور مناسب جواز کے نچلے عہدوں پر تعینات کیے جانے کے معاملات کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔حالانکہ ان ملازمین کو اٹھ سال کے دوران متعدد بار بہترین کارگردگی کے ایوارڈ بھی دے چکے ہیں
9۔ یہ بھی تشویشناک امر ہے کہ بعض ملازمین، جو اپنے سروس حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، ان کے خلاف بار بار وضاحت طلبی، تبادلے، تنخواہوں میں کٹوتیوں اور دیگر انتظامی کارروائیوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ اگر یہ کارروائیاں قانون کے مطابق تھیں تو ان کی مکمل تفصیلات جاری کی جائیں۔10۔کمپنیاں بھی ہوتی ہے ٹھیکیدار بھی ہوتا ہے لیکن ان کی بھی کوئی قانونی حدود ہوتی ہے ڈبلیو ایس ایس پی کے اندر پچھلے چھ سال سے ٹیکہ داری نظام کے ساتھ کون ملوث ہے جو ان پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے ملازمین سے مختلف احتصال جاری ہے اور ان کو بھی تمام حقوق سے محروم رکھا گیا ہے جو غیر قانونی ہے ڈبلیو ایس ایس پی میں 2020 کے بعد پرائیویٹ لمٹڈ کمپنی کے ذریعے جن کو ٹھیکہ داری کا نام دیا ہے
ملازمین کو مختلف حقوق سے محروم رکھا ہے جو لیبر قوانین کی خلاف ورزی ہے اس پر مکمل الگ انکوائری بنائے جائیں .اس کے ساتھ ساتھ تقریباً 1800 کمپنی کیڈر ملازمین کو آج تک ان کے بنیادی سروس حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، جن میں مستقل سروس اسٹرکچر، ریگولرائزیشن، سالانہ انکریمنٹ، پروموشن، اپ گریڈیشن، سینیارٹی، ڈبل اوور ٹائم، سالانہ بونس، ورکر ویلفیئر بورڈ میں رجسٹریشن، معیاری میڈیکل سہولیات، پروویڈنٹ فنڈ، مختلف الاؤنسز اور دیگر قانونی مراعات شامل ہیں۔ ان حقوق کی عدم فراہمی نے ملازمین اور ان کے خاندانوں کو شدید ذہنی، معاشی اور پیشہ ورانہ مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔
لہٰذا ہم صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ
– ڈبلیو ایس ایس پی کا آزادانہ فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔
– مذکورہ تمام معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
– ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق کیا جائے۔
– تقریباً 1800 کمپنی کیڈر ملازمین کو ان کے تمام آئینی اور قانونی حقوق فوری فراہم کیے جائیں۔
– ادارے میں قانون، میرٹ، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے۔ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس درخواست کو عوامی مفاد، قانون کی بالادستی اور ملازمین کے حقوق کے تناظر میں سنجیدگی سے لیں گے۔اگر ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا اور مؤثر عملی اقدامات نہ کیے گئے، تو ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس معاملے کو قومی سطح پر متعلقہ آئینی اداروں، منتخب عوامی نمائندوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، ذرائع ابلاغ اور دیگر قانونی فورمز کے سامنے پیش کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی سطح پر بھی مزدوروں اور انسانی حقوق سے متعلق جائز فورمز کو حقائق سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ ملازمین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن، قانونی اور جمہوری ذرائع اختیار کیے جا سکیں۔ہماری جدوجہد کسی فرد کے خلاف نہیں، بلکہ قانون کی بالادستی، شفاف احتساب، عوامی وسائل کے تحفظ اور ملازمین کے آئینی و قانونی حقوق کے لیے ہے۔
والسلام
ناصر خان افریدی
لیگل کوارڈینیٹر ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ ورکر یونین رجسٹرڈ
خادم ڈبلیو ایس ایس پی پشاور
03145959518






