ضم اضلاع پر نئے ٹیکس اور خیبرپختونخوا میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ناقابل قبول، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دوٹوک مؤقف!

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی سے تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز اور پارٹی قائدین پر مشتمل وفد نے ملاقات کی، جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور صوبے میں جاری غیر اعلانیہ و طویل لوڈشیڈنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت ضم شدہ اضلاع کو مسلسل دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ این ایف سی، اے آئی پی اور کرنٹ بجٹ کے واجبات روکنے کے بعد اب ان اضلاع پر نئے ٹیکس نافذ کیے جا رہے ہیں، جو وہاں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کو ترقیاتی برابری حاصل ہونے تک ٹیکس نہ لگانے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر وفاقی حکومت نے اپنے ہی وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئے ٹیکس نافذ کر دیے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔وفد نے بھی واضح کیا کہ ضم شدہ اضلاع پر ٹیکسوں کا نفاذ عوام کے حقوق پر ضرب ہے اور اس فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں صوبے میں جاری غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وفد نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور بجلی کی غیر یقینی فراہمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ شدید گرمی میں یہ صورتحال عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ، این ایف سی، اے آئی پی اور دیگر مالی واجبات، نیز بجلی کی ترسیل سے متعلق تمام معاملات وفاقی حکومت کے ساتھ بھرپور انداز میں اٹھائے جائیں گے اور اس حوالے سے وفاقی حکومت کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے پیسکو، ٹیسکو اور ہیسکو کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کے عوام، بالخصوص ضم شدہ اضلاع کے آئینی، معاشی اور ترقیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی اور کسی بھی ایسے فیصلے کے خلاف بھرپور آواز بلند کرے گی جو صوبے اور اس کے عوام کے مفادات کے منافی ہو۔

جواب دیں

Back to top button