ریپ میں ملوث عناصر کو عبرت کا نشان بنایا جائے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی

کوہاٹ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، گورننس اور سروس ڈیلیوری سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے صوبہ بھر میں ریپ کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے مجرموں کو عبرت کا نشان بنایا جائے اور انہیں قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ کوہاٹ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، گورننس اور سروس ڈیلیوری سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بجٹ کی منظوری کے بعد آج سے ڈویژنل سطح پر جائزہ اجلاسوں کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں اور سروس ڈیلیوری پر صرف پریزنٹیشنز کافی نہیں، بلکہ عوام کا اعتماد، مثبت فیڈبیک اور اطمینان ہی اصل کامیابی کا معیار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ ہمیں موجودہ چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کرنا ہے اور نئے مالی سال کو امن، ترقی اور خوشحالی کا سال بنانا ہے۔ اسی مقصد کے لیے نئے بجٹ میں ترجیحات کے مطابق پولیس، صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے نمایاں فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ جنوبی اضلاع میں پولیس نفری بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عوام سے مسلسل رابطہ رکھا جائے، افسر شاہی کے کلچر کا خاتمہ کیا جائے، دفاتر کو عوامی خدمت کے لیے ہر وقت کھلا رکھا جائے، جبکہ تکمیل کے قریب تمام ترقیاتی منصوبوں کو اولین ترجیح پر مکمل کرکے عوام کے لیے فعال بنایا جائے۔انہوں نے جنوبی اضلاع میں پینے کے صاف پانی کے دیرینہ مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر اور دیرپا تجاویز پر فوری پیش رفت کی بھی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ منشیات ایک ناسور ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے مربوط اقدامات کرنے اور انہیں عوامی مقامات پر نظر نہ آنے کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔سرکاری محکموں کے اعلیٰ افسران کو میرٹ پر ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، اس لیے وہ بھی اپنے اداروں میں میرٹ، شفافیت اور احتساب کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ ضلعی انتظامیہ کھلی کچہریوں اور دیگر عوامی سرگرمیوں میں مقامی منتخب عوامی نمائندوں کو بھی شامل کرے۔وزیراعلیٰ نے صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی ری ویمپنگ پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں کرک کے سالٹ اینڈ جپسم سٹی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا اور تین ماہ کے اندر واضح پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صوبے کے ریونیو میں اضافے اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے تمام اضلاع میں زیرِ التوا میگا عوامی منصوبوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وسیع تر عوامی مفاد کے حامل منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے ہنگو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں عملے کی عدم موجودگی کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور واضح کیا کہ عوامی خدمت سے متعلق اداروں میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ: اے ڈی پی 2025-26 کے تحت کوہاٹ ڈویژن میں 377 ترقیاتی اسکیموں پر کام جاری ہے۔ ڈویژن کے لیے مختص فنڈز کا 99.6 فیصد جاری کیا جا چکا ہے جبکہ فنڈز کے استعمال کی شرح 96.7 فیصد رہی۔سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں 75 نئی ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں جن کی مجموعی تخمینہ لاگت 63.6 ارب روپے ہے۔ آئندہ مالی سال کے اے ڈی پی میں 80 جاری ترقیاتی اسکیمیں بھی شامل ہیں جن کی مجموعی تخمینہ لاگت 95.2 ارب روپے ہے۔طالبات کے داخلوں میں اضافے کے لیے خصوصی فیمیل ایجوکیشن انرولمنٹ مہم شروع کی گئی ہے۔منشیات کے استعمال اور پیشہ ورانہ گداگری کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button