پشاور ہائی کورٹ کا اہم اقدام،ڈبلیو ایس ایس پی ملازمین کے مقدمے میں صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری

واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (WSSP) کے کمپنی کیڈر ملازمین کے حقوق سے متعلق دائر آئینی رٹ پٹیشن نمبر 6977-P/2026 میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد صوبائی حکومت اور متعلقہی فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر پیرا وائز جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اف پاکستان محمد ارسلان افریدی اینڈ زیارت خان مومند پیش ہوئے

اس موقع پر درخواست گزار ناصر خان آفریدیلیگل کوآرڈینیٹر WSSC کوہاٹ ورکر یونین (رجسٹرڈ) اور خادم WSSP پشاور نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ صرف ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ برسوں سے اپنے آئینی، قانونی اور سروس حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے کمپنی کیڈر ملازمین کی آواز کو باقاعدہ عدالتی فورم پر سنا جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ حکام عدالت کے سامنے اپنے تمام اقدامات، پالیسیوں اور فیصلوں کا قانونی جواز پیش کریں۔ عدالت نے جواب طلب کرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ درخواست میں اٹھائے گئے قانونی نکات قابلِ غور ہیں اور ان پر متعلقہ اداروں کو جواب دینا ہوگا۔ناصر خان آفریدی نے مزید کہا کہ ہم کسی شخصیت یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ قانون، انصاف اور مساوی حقوق کے حق میں کھڑے ہیں۔ ہماری جدوجہد صرف WSSP کے ہزاروں کمپنی کیڈر ملازمین کے محفوظ مستقبل، سروس اسٹرکچر، ملازمتی تحفظ اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالت عظمیٰ کے اس باوقار ادارے پر مکمل اعتماد ہے اور یقین ہے کہ آئین، قانون اور میرٹ کی بنیاد پر انصاف یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے تمام WSSP ملازمین سے اپیل کی کہ وہ اتحاد و نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، افواہوں پر کان نہ دھریں اور قانونی جدوجہد میں ثابت قدم رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ہر اس ملازم کی امید ہے جو برسوں سے اپنے جائز حقوق کا منتظر ہے۔آخر میں ناصر خان آفریدی نے کہا کہ ہم نے عدالت کا دروازہ اس لیے کھٹکھٹایا ہے تاکہ قانون کی حکمرانی قائم ہو، ملازمین کے حقوق محفوظ ہوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور باوقار سروس اسٹرکچر قائم کیا جا سکے۔ ان شاء اللہ حقائق، قانون اور انصاف کی فتح ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button