صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبر پختونخوا کا سال 2026-27 کا پہلا اجلاس 26 ارب سے زائد کے 23 اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبر پختونخوا کا سال 2026-27 کا پہلا اجلاس آج محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں 26 ارب سے زائد کے 23 اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ منظور شدہ منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی، پانی کی فراہمی، صحت، اعلیٰ تعلیم، اوقاف اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے منصوبے شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے آبپاشی کے شعبے میں زراعت اور پانی کے وسائل کو بہتر بنانے کے لیے اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان میں ضم اضلاع میں شمسی توانائی پر مبنی 118 ٹیوب ویلز کی تنصیب اور موجودہ ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن شامل ہے جس سے 2752 ایکڑ اراضی سیراب ہوگی اور کسانوں کو سستی آبپاشی کی سہولت میسر آئے گی۔ اسی طرح ضلع مہمند میں 17 سب سکیموں کے تحت فلڈ پروٹیکشن ورکس، آبپاشی چینلز اور 3 چیک ڈیمز تعمیر کیے جائیں گے جس سے 925 ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہوگا ۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے صوبے میں رابطہ سڑکوں کی بہتری کے لیے 4 اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان میں کوہاٹ ڈویژن، کرک اور دیگر اضلاع میں بلیک ٹاپ روڈز کی تعمیر و توسیع شامل ہے جس سے تقریباً 13.5 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ ایبٹ آباد میں گلیات کے سیاحتی کوریڈور ایبٹ آباد-نتھیاگلی-بریاں اور کوزاگلی-ایوبیہ-خانسپور روڈ کی بحالی و اپگریڈیشن کی منظوری دی گئی ہے تاکہ سیاحت اور مقامی آمدورفت بہتر ہو سکے۔ ضلع ایبٹ آباد کی مختلف دیہی سڑکوں جن میں تاجوال، مچنہ، سرین، باگنوتر اور نملی میرا شامل ہیں، کی تعمیر و بحالی سے پہاڑی علاقوں میں صحت، تعلیم اور کاروبار تک رسائی آسان ہوگی۔ ضلع کرک میں بانڈہ داؤد شاہ سے گرگوری تک 38 کلومیٹر روڈ کی مرمت و بحالی کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا ہے جس سے مقامی آبادی کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات میسر آئیں گی۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبرپختونخوا اسلام زیب کی زیر صدارت اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں فورم ممبران اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کوہاٹ ڈویژن میں بلیک ٹاپ سڑکوں کی تعمیر، بہتری، بحالی اور توسیع کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ ایبٹ آباد نتھیاگلی بریاں روڈ اور کوزاگلی ایوبیہ تا خانسپور روڈ کی بحالی و بہتری اور ضلع ایبٹ آباد میں مختلف لنک روڈز کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں کو بھی منظور کیا گیا۔آبپاشی کے شعبے میں ضم شدہ اضلاع میں شمسی توانائی پر مبنی آبپاشی ٹیوب ویلز کی تعمیر اور ضلع مہمند میں چیک ڈیمز، آبپاشی نہروں اور حفاظتی بندات کی تعمیر کے منصوبوں کو منظوری دی گئی۔ پینے کے پانی میں ضلع کوہاٹ کے لاچی سٹی، خدر خیل، گل شاہ خیل، ملگین، در تپی اور ملحقہ دیہاتوں کے لیے میگا واٹر سپلائی سکیم کی تعمیر بھی منظور کی گئی۔صحت کے شعبے میں ضلع بنوں میں آر ایچ سی ڈومیل کو کیٹیگری ڈی ہسپتال میں اپگریڈیشن، ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہاٹ میں ایمرجنسی اور ٹراما سینٹر کی اپگریڈیشن، خیبر پختونخوا میں ٹی بی کنٹرول پروگرام فیز-II کو مضبوط بنانے، خیبر پختونخوا میں انٹیگریٹڈ ڈیزیز نگرانی رسپانس سسٹم اور خیبر ایجنسی میں تیراہ باغ میدان میں ٹائپ ڈی ہسپتال کے قیام کے منصوبے منظور کیے گئے۔ اس کے علاوہ جمرود خیبر میں موجودہ عمارت میں میڈیکل کالج کا قیام بھی منظور ہوا۔اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا سائنس وغیرہ پر طلبہ اور اساتذہ کے لیے اعلیٰ تعلیمی اقدامات،تحقیق ، تربیتی پروگرامز ،ڈپلومہ اور ضلع ملاکنڈ بٹ خیلہ میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے قیام کی منظوری دی گئی۔اوقاف میں خیبر پختونخوا میں قبرستانوں کے لیے زمین کی خریداری اور باؤنڈری وال اور صوبہ بھر بشمول ضم شدہ میں اضلاع مساجد، مدارس اور دارالعلوم کی تعمیر، تعمیر نو، بحالی اور بہتری کے لیے خصوصی پیکج منظور کیا گیا۔اس کے علاوہ صوبائی لینڈ یوز پلان خیبر پختونخوا کو بھی منظوری دی گی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے اجلاس میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منظور شدہ منصوبوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور انہیں مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

جواب دیں

Back to top button