تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے ملازمین اور پنشنرز شدید مالی بحران، عدم استحکام اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے ایک مستقل، منظم اور محفوظ اکاؤنٹنگ سسٹم فراہم کرنے میں محکمہ بلدیات خیبرپختونخوا مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے ہزاروں ملازمین کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔ ایک طرف محکمہ فنانس بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں کو ‘اکاؤنٹ فور پر منتقل کرنے میں لیت و لعل سے کام کے رہا ہے تو دوسری طرف ملازمین کو پریشانی سے دوچار کرنے کے لئے بنایا گیا مصنوعی سانسیں لینے والے پرسنل لیجر اکاؤنٹ کا فرسودہ اور عارضی نظام بھی اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ پی ایل اے کی توسیعی مدت بھی 30 جون 2026 کو اپنی موت آپ مر چکی ہے، اور تاحال اس میں کوئی مزید توسیع نہیں کی گئی۔ بلدیاتی اداروں کے PLA اکاؤنٹس منجمد، ملازمین فاقہ کشی پر مجبور اس مجرمانہ غفلت اور بیوروکریسی کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ صوبے بھر کے بلدیاتی اداروں کے اکاؤنٹ مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ اکاونٹس بند ہونے کے وجہ سے اکثریتی ٹی ایم ایز کے مستقبل ملازمین اور پنشنرز اپنی جائز اور بنیادی آئینی حقوق، تنخواہوں اور پنشن سے تاحال محروم چلے آ رہے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے ملازمین کو سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے اور ان کے بچے فاکوں کے شکار ہیں۔مستقل اکاونٹنگ سسٹم کے حل میں رکاوٹیں حکام کی بے حسی ہے۔ لکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے عہدیداران سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی، چئیرمین محبوب اللہ، صدر حاجی انور کمال خان، جنرل سیکریٹری سلیمان خان ہوتی اور پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر شوکت علی انجم نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کے مستقبل اکاؤنٹ فور کے تعین اور مستقل اکاؤنٹںگ سسٹم کی فراھمی یقینی بنانے جیسے معاملات محکمہ بلدیات ، محکمہ فنانس اور محکمہ قانون کے درمیان جاری رسہ کشی سے بلدیاتی ملازمین کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے جب تک ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن باقاعدہ طور پر مستقل اکاؤنٹ فور سے یقینی نہیں بنائی جاتی اور بلدیاتی اداروں کے لئے مستقل اکاونٹنگ سسٹم سے براہ راست ادائیگیوں کا طریقہ کار وضع نہیں کیا جاتا، اس وقت تک بلدیاتی اداروں کا شدید مالی بحران ہر ختم نہیں ہو گا۔ فرسودہ اکاونٹنگ سسٹم پرسنل لیجر اکاونٹ پر نظام چلانے کی پالیسی اب مزید نہیں چل سکتی۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے سینئر قیادت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی,وزیر بلدیات مینا خان آفریدی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سید شہاب علی شاہ اور سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی ظفرالاسلام خٹک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہ اور پنشن کے مسئلے کو عارضی بنیادوں کے بجائے مستقل طور پر حل کرنے کے لئے اکاونٹ فور کی منظوری یقینی بنا کر مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے اور بلدیاتی اداروں کےلئے مستقل اکاؤنٹںگ سسٹم کی فوری فراہمی وقت کی اھم ضرورت ہے۔
Read Next
21 گھنٹے ago
وزیر بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی کا یکہ توت نہر کے تعمیرِ نو منصوبے کا دورہ
2 دن ago
لوکل کونسل آفیسرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کی صوبائی وزیر بلدیات سے ملاقات کی درخواست
3 دن ago
صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبر پختونخوا کا سال 2026-27 کا پہلا اجلاس 26 ارب سے زائد کے 23 اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری
3 دن ago
*خیبر پختونخوا میں اوپن وائی فائی کا آغاز*
4 دن ago
پشاور ہائی کورٹ کا اہم اقدام،ڈبلیو ایس ایس پی ملازمین کے مقدمے میں صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری
Related Articles
لوکل کونسل بورڈ کے موجودہ افسران کا مشن صرف پیسے کمانا اور اپنی سیٹوں کو بچانا ہے،لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا
4 دن ago
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعظم کو ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے مجوزہ فیصلے پر نظرثانی کے لیے خط!
5 دن ago
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ضم اضلاع میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لئے انتظامیہ کو تین ماہ کی ڈیڈ لائن دے دی
7 دن ago
مالاکنڈ ڈویژن میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں، گورننس اور سروس ڈیلیوری سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس
1 ہفتہ ago


