*میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے 35 سال بعد میر محمد بلوچ واٹر پمپنگ اسٹیشن کا افتتاح کردیا*

کراچی کے آبی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور شہریوں کو پانی کی بہتر فراہمی یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے میئر کراچی و چیئرمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے 35 سال بعد میر محمد بلوچ واٹر پمپنگ اسٹیشن کا باضابطہ افتتاح کردیا۔ پمپنگ اسٹیشن کی بحالی سے صدر ٹاؤن، لیاری ٹاؤن اور اولڈ سٹی ایریا کے تین لاکھ سے زائد شہریوں کو پانی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی جبکہ کئی دہائیوں سے جاری پانی کی قلت کے مسائل میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔افتتاحی تقریب میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی، چیف آپریٹنگ آفیسر انجینئر اسداللہ خان، چیف انجینئر آفتاب عالم چانڈیو سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور منتخب عوامی نمائندے موجود تھے۔منصوبے کی تکمیل سے رنچھوڑ لائن، کھارادر، میٹھادر، جوڑیا بازار، بمبئی بازار، بھیم پورہ، ایس آئی یو ٹی، سول اسپتال، صدر ٹاؤن کی یونین کونسلز 1، 5، 6 اور 7 سمیت اولڈ سٹی ایریا کے وسیع علاقوں میں مقیم تین لاکھ سے زائد شہری مستفید ہوں گے۔

اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ تقریباً تین ماہ قبل میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے مقامی نمائندوں اور شہریوں کی دعوت پر علاقے کا دورہ کیا اور میر محمد بلوچ واٹر پمپنگ اسٹیشن کا معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر فعال بنایا جائے تاکہ علاقے کے مکینوں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکے۔میئر کراچی کی ہدایات پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے پمپنگ اسٹیشن کی بحالی کے لیے جامع اقدامات کیے جن میں سول اسٹرکچر کی مرمت و بحالی، پمپنگ مشینری کی مکمل اوورہالنگ، 125 ہارس پاور کی تین الیکٹرک موٹروں کی ری وائنڈنگ، لو ٹینشن کیبلز کی تنصیب، 500 رننگ فٹ طویل 12 انچ قطر کی پائپ لائن بچھانا، جدید الیکٹرک پینل کی فراہمی اور کے الیکٹرک سے مستقل بجلی کنکشن کا حصول شامل ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے پر کے الیکٹرک کی ادائیگیوں سمیت مجموعی طور پر 30.5 ملین روپے لاگت آئی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میر محمد بلوچ واٹر پمپنگ اسٹیشن 1991 میں اس وقت قائم کیا گیا تھا جب ڈاکٹر فاروق ستار کراچی کے میئر تھے، تاہم مستقل بجلی کنکشن نہ ملنے کے باعث یہ منصوبہ فعال نہ ہوسکا اور تین دہائیوں سے زائد عرصے تک غیر فعال رہا۔ اس دوران اولڈ سٹی ایریا اور ملحقہ علاقوں کے شہری پانی کی شدید قلت کا شکار رہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتیں 38 برس تک اقتدار میں رہنے کے باوجود آج بھی یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ انہوں نے کراچی بنایا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے عوام کو صرف وعدے اور دعوے دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بخوبی دیکھ رہے ہیں کہ احتجاج کون کر رہا ہے اور کام کون کر رہا ہے۔ کراچی کے عوام باشعور ہیں اور وہ کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہمیشہ عوامی مسائل کے حل پر زور دیتے ہیں۔ "جب بھی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ عوام کے مسائل حل کریں اور خدمت کے سفر کو جاری رکھیں۔”انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اہم عوامی منصوبوں کو بھی سیاست کی نذر کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص سڑکوں کی کھدائی اور بحالی کے کاموں میں بہتر ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں ترقی اور بہتری کا سفر جاری ہے اور رواں سال بھی مختلف ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ، ڈینسو ہال، سوبھراج اسپتال اور اسپینسر آئی اسپتال کی بحالی کے بعد دیگر عوامی سہولتوں کی بہتری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ میر محمد بلوچ واٹر پمپنگ اسٹیشن کی بحالی کے بعد گارڈن پمپنگ اسٹیشن پر کام شروع کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ اسی طرح منگھوپیر اور مومن آباد میں بھی نئے پمپنگ اسٹیشنز تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ شہر میں پانی کی فراہمی کا نظام مزید مستحکم بنایا جا سکے۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کے تھری لائن کے ذریعے آئندہ دو ماہ میں لیاری کو مزید 10 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جائے گا، جبکہ گلشن حدید اور اسٹیل ٹاؤن کے مکینوں کا چار دہائیوں پرانا مسئلہ بھی حل کر دیا گیا ہے اور ان علاقوں کو روزانہ 50 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی اولین ذمہ داری شہریوں کو بنیادی سہولیات، خصوصاً صاف پانی کی فراہمی ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن شہر بھر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مؤثر بنانے، فرسودہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور عوامی مسائل کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ ہم عوام میں سے تھے، عوام میں سے ہیں اور عوام میں سے رہیں گے۔ شہر کے ہر علاقے کے مسائل کے حل کے لیے بلاامتیاز کام کر رہے ہیں اور جو وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے واٹر کارپوریشن کے افسران اور عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت کے باعث ایک دیرینہ عوامی مسئلہ حل ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیت صاف ہو تو اللہ تعالیٰ منزل آسان کر دیتا ہے اور تمام تر مشکلات کے باوجود عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ کراچی کی ترقی اور بہتری کا سفر جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات اور معیاری شہری خدمات فراہم کی جا سکیں

جواب دیں

Back to top button