کراچی کے صنعتی انفراسٹرکچر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت کے طور پر شہر کے مختلف صنعتی زونز کی ایسوسی ایشنز نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے کراچی کے تمام بڑے صنعتی علاقوں کے انفراسٹرکچر کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے فراہم کردہ 9.281 ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی گرانٹ پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے،اس سلسلے میں اوور سائٹ کمیٹی کا چھٹا جائزہ اجلاس میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت کمشنر آفس میں منعقد ہوا، جس میں ترقیاتی پیکیج پر ہونے والی پیشرفت اور متعلقہ انڈسٹریل زون ڈیولپمنٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی جانب سے منصوبوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں مختلف ٹریڈ ایسوسی ایشنز اور انڈسٹریل ڈیولپمنٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے نمائندوں نے منصوبوں کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس کو بتایا گیا کہ متعدد منصوبوں کے ورک آرڈرز جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی منصوبے خریداری (پروکیورمنٹ) کے آخری مراحل میں ہیں اور آئندہ چند روز میں ان پر عملی کام شروع ہو جائے گا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ اقدام سندھ حکومت کے اس عزم کا مظہر ہے کہ کراچی کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے اور شہر کی کاروباری برادری کو عالمی معیار کا انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے،انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ترقیاتی گرانٹ کی مکمل رقم براہِ راست صنعتی زونز کی ایسوسی ایشنز کو منتقل کی گئی ہے تاکہ وہ سرکاری ضابطہ جاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اپنی ترجیحات کے مطابق ترقیاتی منصوبے خود مکمل کر سکیں، اس منفرد ماڈل کے ذریعے صنعتی ایسوسی ایشنز کو منصوبوں پر آزادانہ عملدرآمد اور بروقت تکمیل کا اختیار دیا گیا ہے،
میئر کراچی نے کہاکہ اب یہ ذمہ داری صنعتی ایسوسی ایشنز پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان منصوبوں پر تیز رفتاری سے عملدرآمد کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر معیاری انفراسٹرکچر فراہم کریں،انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ کراچی کی کاروباری اور صنعتی برادری کی فلاح کو ترجیح دی ہے، انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایات پر یہ تاریخی ترقیاتی پیکیج تیار کیا گیا تاکہ کراچی کے صنعتی علاقوں میں طویل عرصے سے درپیش انفراسٹرکچر کے مسائل کا مؤثر حل نکالا جا سکے،انہوں نے کہا کہ صنعتی ایسوسی ایشنز نے خود سڑکوں، گلیوں، نکاسی آب کے نظام اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی نشاندہی اور ترجیحات کا تعین کیا جس کے بعد سندھ حکومت نے ان منصوبوں کے لیے مکمل فنڈز کی فراہمی اور منتقلی کو یقینی بنایا،انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی ہر مرحلے پر کاروباری برادری کی معاونت کے لیے پرعزم ہیں کیونکہ کراچی پاکستان کا مالیاتی اور معاشی مرکز ہے، پائیدار معاشی ترقی اسی صورت ممکن ہے جب ہماری صنعتوں کو جدید انفراسٹرکچر اور بنیادی شہری سہولیات فراہم کی جائیں،میئر کراچی نے کہا کہ اوور سائٹ کمیٹی باقاعدگی سے تقریباً ہر ماہ اجلاس منعقد کرے گی تاکہ منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا جا سکے، درپیش رکاوٹیں دور کی جا سکیں اور تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرائے جا سکیں،منظور شدہ فنڈز کے تحت نارتھ کراچی انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کمپنی کو 721 ملین روپے، فیڈرل بی ایریا ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز (FiTE) ڈیولپمنٹ کمپنی کو 860 ملین روپے،لانڈھی انڈسٹریل ایریا (LITE) کو 2 ارب روپے،کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (KITE) کو 2 ارب روپے،بن قاسم انڈسٹریل پارک کو 1 ارب روپے، سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (SITE) کو 2 ارب روپے جبکہ سائٹ سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا کو 700 ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں،اجلاس میں سیکریٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس شادیہ جعفر، کمشنر آفس کے سینئر افسران، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے نمائندوں، متعلقہ صنعتی ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے عہدیداران، نمائندوں اور انڈسٹریل ڈیولپمنٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے حکام نے شرکت کی۔






