کراچی میں یونین کونسل کی سطح پر گردوں کی بیماریوں کی اسکریننگ کا پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے شہریوں کو بیماریوں کی بروقت تشخیص اور احتیاطی طبی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز کو کراچی بھر میں یونین کونسل کی سطح پر گردوں کی بیماریوں کی اسکریننگ کا پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اس اقدام کا مقصد گردوں سے متعلق بیماریوں کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی، شہر میں گردوں کے امراض کی حقیقی شرح کا تعین اور ایسے شہریوں کی بروقت شناخت کرنا ہے جنہیں مزید طبی معائنے، علاج اور نگہداشت کی ضرورت ہو۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ یونین کونسل چیئرمینز کے تعاون سے بڑے پیمانے پر اسکریننگ پروگرام منعقد کیا جائے۔ اس پروگرام کے ذریعے بالخصوص ایسے شہریوں کو اپنی مقامی سطح پر گردوں کی ابتدائی اسکریننگ کی سہولت حاصل ہوگی جو خصوصی طبی مراکز تک آسانی سے رسائی نہیں رکھتے۔ میئر کراچی نے کہا کہ یہ اقدام بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے شہریوں کے لیے طبی سہولیات کو بہتر بنانے اور نچلی سطح تک احتیاطی طبی خدمات کو وسعت دینے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمیں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ کراچی میں گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کی اصل تعداد کتنی ہے۔ اسی مقصد کے تحت کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز کو ہدایت کی گئی ہے کہ یونین کونسل چیئرمینز کے تعاون اور اشتراک سے یونین کونسل کی سطح پر گردوں کے اسکریننگ ٹیسٹ کیے جائیں۔“ انہوں نے کہا کہ ابتدائی اسکریننگ اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ گردوں سے متعلق بہت سی بیماریاں اس وقت تک سامنے نہیں آتیں جب تک وہ انتہائی پیچیدہ یا خطرناک مرحلے تک نہ پہنچ جائیں۔ نچلی سطح پر اسکریننگ ٹیسٹ کے انعقاد سے شہری ابتدائی مرحلے میں ممکنہ طبی مسائل سے آگاہ ہو سکیں گے اور بروقت طبی مشورہ اور علاج حاصل کر سکیں گے. انہوں نے کہا کہ اسکریننگ کے نتیجے میں جن شہریوں کو مزید طبی نگہداشت یا علاج کی ضرورت ہوگی، انہیں متعلقہ طبی مراکز اور اسپتالوں میں ریفر کیا جائے گا جہاں ان کے علاج میں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ میئر کراچی نے کہا کہ ”ہمارا مقصد صرف اسکریننگ ٹیسٹ کرانا نہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ جو شہری متاثرہ پائے جائیں انہیں مناسب رہنمائی، علاج اور طبی نگہداشت بھی حاصل ہو۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اسے پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔“ میئر کراچی نے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ نہ صرف کراچی کے شہریوں بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بھی خصوصی طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز انتہائی مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے اور اس نے ایک اہم خصوصی طبی ادارے کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ پاکستان بھر سے مریض یہاں علاج کے لیے آ رہے ہیں، جو کراچی میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے معیار اور رسائی کا ایک اور ثبوت ہے۔“ انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیرانتظام اسپتالوں اور طبی اداروں کی بہتر کارکردگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انتظامیہ سرکاری طبی مراکز کو جدید اور فعال بنانے اور شہریوں کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی روایتی حدود سے آگے بڑھ کر کراچی کے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے اور بنیادی شہری خدمات کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کام جاری رکھے گی۔ میئر کراچی نے کہا کہ ”علاج کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ہم آگاہی اور بیماریوں سے بچاؤ پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ کے ایم سی کی جانب سے گردوں کے امراض کے حوالے سے آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ شہری ابتدائی اسکریننگ، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔“ انہوں نے کہا کہ پروگرام کی کامیابی میں یونین کونسل چیئرمینز کا کردار انتہائی اہم ہوگا کیونکہ وہ نچلی سطح پر عوام اور مقامی آبادیوں سے براہ راست رابطے میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”یونین کونسل چیئرمینز کا اس اقدام میں اہم کردار ہے۔ وہ اپنے علاقوں کے شہریوں تک پہنچنے، لوگوں کو اسکریننگ پروگرام میں شرکت کے لیے ترغیب دینے اور ایسے افراد کو متعلقہ طبی مراکز سے منسلک کرنے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں جنہیں طبی نگہداشت کی ضرورت ہو۔“ میئر کراچی نے کہا کہ عوامی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا مقامی حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور کے ایم سی اپنے اسپتالوں اور طبی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم آج جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ ہم اپنی روایتی حدود سے آگے بڑھ کر کراچی کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ ہمارے اسپتالوں اور طبی اداروں کو ایک فعال اور مؤثر نظامِ خدمات میں واپس لایا جا رہا ہے، جس کا واضح مقصد شہریوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ گردوں کی بیماریوں کی اسکریننگ کا پروگرام کو نچلی سطح تک وسعت دی جائے گی اور بلدیہ عظمیٰ کراچی احتیاطی طبی خدمات، بیماریوں کے حوالے سے آگاہی اور خصوصی علاج تک رسائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے آئندہ بھی مختلف اقدامات جاری رکھے گی۔ میئر کراچی نے کے آئی کے ڈی کی انتظامیہ اور متعلقہ یونین کونسل نمائندگان کو ہدایت کی کہ اسکریننگ پروگرام کے لیے مؤثر رابطہ کاری اور منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس اقدام سے مستفید ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف گردوں سے متعلق صحت کے مسائل کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ اس کے ذریعے حاصل ہونے والے اعداد و شمار مستقبل میں کراچی کے شہریوں کے لیے صحت سے متعلق منصوبہ بندی، طبی اقدامات اور سہولیات کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

جواب دیں

Back to top button