وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کاکراچی کی سکیم 33، ملیر میمن گوٹھ، منور انڈر پاس اور ملحقہ علاقوں میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کراچی کے اسکیم 33، ملیر میمن گوٹھ، منور انڈر پاس اور ملحقہ علاقوں میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کرکے سڑکوں، پلوں، انڈر پاس اور دیگر انفرااسٹرکچر منصوبوں پر جاری کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا، اس موقع پر ڈی جی کے ڈی اے زین العابدین انصاری اور متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر کو مختلف منصوبوں پر جاری کام، تکمیل کی مدت، لاگت اور تعمیراتی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ ملیر میمن گوٹھ میں 11.54 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر جاری ہے جس کی تخمینی لاگت 1428 ملین روپے ہے، منصوبے پر تعمیراتی کام فروری 2026 میں شروع کیا گیا تھا اور اسے 24 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے، سڑک کی چوڑائی 7.3 میٹر ہے جبکہ منصوبے میں 125 میٹر طویل فلائی اوور بھی شامل ہے، یہ سڑک ایکسپریس وے سے براستہ ملیر ریور روڈ تعمیر کی جارہی ہے جس کی تکمیل سے ملیر میمن گوٹھ اور اطراف کے علاقوں کو مرکزی شاہراہوں سے بہتر رابطہ میسر آئے گا۔ وزیر بلدیات کو اسکیم 33 میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ چار بڑی سڑکوں کی تعمیر جاری ہے جبکہ مجموعی طور پر 24 کلومیٹر طویل دو رویہ سڑک کی تعمیر کے منصوبے کی تخمینی لاگت 1987 ملین روپے ہے اور منصوبے کا تقریباً 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، منصوبے کو مقررہ مدت سے قبل مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکام کے مطابق اسکیم 33 میں زیر تعمیر سڑکوں کا نیٹ ورک ایم نائن موٹر وے اور سپر ہائی وے سے رابطے کو مزید بہتر بنائے گا، جبکہ مہران روڈ سے لنک روڈ تک تعمیر کی جانے والی سڑک کی چوڑائی 10 میٹر ہے، اس کے علاوہ مدراس روڈ، رومی روڈ اور سچل سرمست روڈ تا لنک روڈ کی تعمیر بھی جاری ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے اسکیم 33 اور ملحقہ علاقوں میں آباد شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم ہوں گی اور اہم شاہراہوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہوگی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ تھڈو نالہ کے مقام پر سڑک کی تعمیر کے ساتھ برج بھی تعمیر کیا جارہا ہے جس سے علاقے میں آمدورفت کے مسائل کم کرنے اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ سید ناصر حسین شاہ نے منور انڈر پاس کا بھی دورہ کیا اور وہاں جاری ترقیاتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا، متعلقہ افسران نے صوبائی وزیر کو انڈر پاس کے تعمیراتی مراحل، جاری کام اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی، وزیر بلدیات نے منصوبے کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام مقررہ معیار کے مطابق تیزی سے مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کی جاسکے اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی لائی جاسکے۔ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے تمام منصوبوں کا موقع پر جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو تعمیراتی کام کی رفتار مزید تیز کرنے، مقررہ مدت سے پہلے منصوبے مکمل کرنے اور تعمیراتی معیار کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور معیار دونوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، مختلف اسکیموں کا مسلسل موقع پر جائزہ لینے کا مقصد کام کی رفتار اور معیار کو براہ راست مانیٹر کرنا ہے، کوشش ہے کہ جو منصوبے مقررہ مدت سے پہلے مکمل ہوسکتے ہیں انہیں جلد از جلد مکمل کرکے شہریوں کو سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں چھوٹی بڑی متعدد سڑکوں کی تعمیر و بحالی پر کام جاری ہے جبکہ سندھ حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کیے ہیں، ایف ڈبلیو او سمیت متعلقہ اداروں کو کراچی کے اہم منصوبوں کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور حکومت کی خواہش ہے کہ ان منصوبوں کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ کراچی کے روڈ انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، نئی سڑکوں، پلوں اور انڈر پاسز کی تعمیر کے ساتھ مختلف علاقوں کو ایم نائن موٹر وے، سپر ہائی وے اور دیگر اہم شاہراہوں سے مربوط کیا جارہا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا ترقی اور تعمیر کا واضح وژن ہے اور سندھ حکومت اسی وژن کے تحت عوامی فلاح اور شہری انفرااسٹرکچر کی بہتری کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو یونین کونسل سے ٹاؤن کی سطح تک مزید بااختیار بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ بلدیاتی نظام عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سوال پر وزیر بلدیات نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہے، سندھ حکومت چاہتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے سوال پر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کی بات کرچکے ہیں، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام کو ریلیف اور سہولت ملنی چاہیے۔ سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں، سیاسی اختلافات کو جمہوری اور پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عوامی مسائل اور شہریوں کو درپیش مشکلات پر توجہ دینی چاہیے۔ وزیر بلدیات نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جائے، تعمیراتی کام میں معیار اور رفتار دونوں کو برقرار رکھا جائے اور شہریوں کو منصوبوں کی تکمیل کے لیے غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے، حکومت کی کوشش ہے کہ کراچی میں جاری ترقیاتی اسکیموں کو تیزی سے مکمل کرکے شہر کے مختلف علاقوں میں بہتر روڈ نیٹ ورک اور بنیادی شہری سہولیات فراہم کی جائیں۔

جواب دیں

Back to top button