*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے قومی و صوبائی پیغام امن کمیٹیوں کی ملاقات*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز امن، مذہبی ہم آہنگی، بین المذاہب مکالمے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں، علمائے کرام اور اقلیتی برادریوں کے نمائندوں نے پیغامِ امن کے پلیٹ فارم کے تحت انتہاپسندی، فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی بیانیوں کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔یہ عزم وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس اور بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا جہاں وزیراعلیٰ سندھ نے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور صوبائی پیغامِ امن کمیٹی سندھ کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مولانا طاہر محمود اشرفی نے کی۔اجلاس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر مذہبی امور ریاض شاہ شیرازی، وزیر محنت سعید غنی، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل، کمشنر کراچی حسن نقوی، انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کراچی آزاد خان، اعلیٰ سرکاری حکام، علمائے کرام، اقلیتی برادریوں کے نمائندے اور قومی و صوبائی پیغامِ امن کمیٹیوں کے ارکان شریک ہوئے۔ شرکاء میں مفتی محمد جان نعیمی، راجیش کمار ہرداسانی، سردار رمیش سنگھ خالصہ، پنڈت مہاراج گوسوامی گیر اور دیگر ممتاز مذہبی رہنما بھی شامل تھے۔وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ تاریخی طور پر رواداری، بقائے باہمی اور ثقافتی تنوع کی سرزمین رہا ہے جہاں مختلف مذاہب، مکاتب فکر اور نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی صدیوں پر محیط صوفیانہ روایات، وسعتِ قلب اور ہم آہنگی امن، سماجی یکجہتی اور قومی اتحاد کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔وزیراعلیٰ نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی امن کے فروغ اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان مکالمے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور سماجی استحکام کے لیے امن، برداشت اور باہمی احترام ناگزیر ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ تمام شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ اور اقلیتی برادریوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا ان کی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے محرم الحرام، عید میلاد النبی ﷺ، چہلم، کرسمس، ایسٹر، دیوالی، ہولی اور دیگر مذہبی مواقع پر پرامن اجتماعات کے انعقاد کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی، فرقہ واریت اور نفرت انگیز تقاریر کا مقابلہ صرف حکومت، علمائے کرام، ماہرین تعلیم، ذرائع ابلاغ، نوجوانوں اور سماجی رہنماؤں کی مشترکہ اور مربوط کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ ان کے بقول، علمائے کرام اور مشائخ پرامن، معتدل، ہمدردی اور انسانیت کے احترام پر مبنی اسلامی تعلیمات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔عصر حاضر کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آن لائن انتہاپسندی، گمراہ کن معلومات اور نفرت انگیز بیانیوں کا مقابلہ اجتماعی کوششوں اور ذمہ دارانہ ابلاغ کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کو آئینی اقدار، شہری ذمہ داری، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے پیغامِ پاکستان کے بیانیے کو انتہاپسندی، تشدد اور فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف قومی اتفاقِ رائے قرار دیتے ہوئے اس کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے ہندو، مسیحی، سکھ، پارسی اور دیگر اقلیتی برادریوں کے ساتھ بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کی کوششوں کا خیرمقدم بھی کیا۔اجلاس اور بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طاہر محمود اشرفی نے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں سندھ حکومت کی کوششوں کو سراہا اور مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے فروغ میں سندھ کے کردار کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی اور صوبائی پیغامِ امن کمیٹی ملک بھر میں امن، برداشت، اتحاد اور قومی یکجہتی کے پیغام کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہیں۔قومی اداروں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مولانا اشرفی نے سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات جمہوری اور آئینی طریقوں سے حل کریں اور ایسی بیان بازی سے گریز کریں جو ریاستی اداروں کو کمزور کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فوجی ہمارے بھائی اور بیٹے ہیں، ہمیں اپنی مسلح افواج اور ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور غازیوں پر فخر ہے۔انہوں نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہداء کے اہل خانہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان افراد کی مقروض ہے جنہوں نے پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ہمارے شہداء کی قربانیوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ انہوں نے وطن کے تحفظ کے لیے سب کچھ قربان کیا ہے۔مولانا اشرفی نے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ انتہاپسندی، تشدد اور تقسیم پیدا کرنے والے بیانیوں کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے مختلف مکاتب فکر اور مذہبی برادریوں کے درمیان مکالمے، اتحاد اور روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے افراد کے درمیان بامعنی مکالمہ بہتر افہام و تفہیم اور مثبت نتائج کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن اور استحکام کا براہِ راست تعلق معاشی ترقی اور خوشحالی سے ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری، ترقی اور قومی پیش رفت کے لیے پرامن ماحول ناگزیر ہے، جبکہ ملک بھر میں علمائے کرام اور مذہبی ادارے انتہاپسندی کے خاتمے اور اعتدال و سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیغامِ امن کا مقصد تکفیر کے نظریے کا خاتمہ اور امن، بقائے باہمی اور قومی یکجہتی کی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔اقلیتی برادریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے رکن راجیش کمار ہرداسانی نے کہا کہ پاکستان کی اقلیتی برادریاں امن، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے فرقہ واریت اور سیاسی تقسیم کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے ملک کے شہداء اور ان کے اہل خانہ کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔راجیش کمار ہرداسانی نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کی جان، مال اور حقوق کا تحفظ ایک پرامن اور جامع معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔قومی پیغامِ امن کمیٹی کے رکن مفتی عبد الرحیم نے مذہبی تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور اعتماد سازی کے اقدامات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس سے متعلق امور کو مشاورت، مثبت رابطوں اور تعلیمی اصلاحات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے نصاب کی بہتری، طلبہ کی فکری اور اخلاقی تربیت، اعتدال، ذمہ دار شہری ہونے کے شعور اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیغامِ امن کا بنیادی مقصد معاشرے میں امن، ہم آہنگی، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا پیغام واضح ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات مل کر پاکستان کو امن اور استحکام کا گہوارہ بنائیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ علمائے کرام عوامی رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اعتدال، بین المذاہب ہم آہنگی اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان اتحاد کو فروغ دیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔ قومی پرچم کا سفید حصہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور تمام شہریوں کے لیے مساوی شہریت کے عزم کی علامت ہے۔سینئر وزیر نے کہا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط اور باصلاحیت ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے ملک کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں اور ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھی جائیں گی۔اجلاس میں ضلع انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مذہبی رہنماؤں اور مقامی امن کمیٹیوں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ ابھرتے ہوئے چیلنجز سے بروقت نمٹا جا سکے اور صوبے بھر میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔شرکاء نے پیغامِ امن کے تحت مجوزہ صوبائی علماء، مشائخ اور بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کے انعقاد سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفد کو یقین دلایا کہ سندھ حکومت قومی پیغامِ امن کمیٹی اور صوبائی پیغامِ امن کمیٹی سندھ کے ساتھ مل کر امن کے پیغام، عوامی رابطوں اور احتیاطی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایک مضبوط، پرامن اور متحد پاکستان کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔

جواب دیں

Back to top button