وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں خیبرپختونخوا پولیس کے 4,306 نئے بھرتی ہونے والے کانسٹیبلز میں تقرری کے حکمنامے تقسیم کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ بھرتیاں صوبے کے آٹھوں ڈویژنز سے میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر مکمل کی گئی ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ▪️ امید ہے جس میرٹ پر آپ کی بھرتی ہوئی، اسی میرٹ، دیانتداری اور ایمانداری کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی برقرار رکھیں۔▪️ خیبرپختونخوا میں بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔▪️ خیبرپختونخوا پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ اپنی بہترین پیشہ ورانہ کارکردگی کی بدولت ملک میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔▪️ آج آپ ایک عظیم فورس کا حصہ بن رہے ہیں، اس کی عزت، وقار اور روایات کا ہر حال میں خیال رکھیں۔▪️ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں لڑ رہی ہے۔▪️ بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں نے ملک کو بدامنی کی طرف دھکیلا، مگرخیبرپختونخوا پولیس نے 22 سال سے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
▪️ خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں اور جرات کو سلام پیش کرتا ہوں۔▪️ اپنے مقصد پر ثابت قدم رہیں، کسی بھی دباؤ یا مداخلت کے سامنے نہ جھکیں۔▪️ جرائم کے خاتمے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔▪️ دہشت گردی ہم پر مسلط کی گئی، امن کے مکمل قیام تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔▪️ عوام سے خوش اخلاقی، احترام اور انصاف کے ساتھ پیش آنا ہی ایک اچھے پولیس اہلکار کی پہچان ہے۔▪️ صوبائی حکومت پولیس فورس کی ہر مرحلے پر مکمل معاونت جاری رکھے گی۔▪️ خواتین کانسٹیبلز کی شمولیت خوش آئند ہے، صوبائی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔▪️ خواتین کے لیے انٹرن شپ پالیسی، بلاسود قرضوں اور دیگر حکومتی پروگراموں میں برابر کا حصہ دیا جائے گا۔▪️ آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔▪️ گزشتہ 78 برس سے جمہوری عمل کو محدود کیا جاتا رہا اور اس کا الزام سیاستدانوں پر عائد کیا جاتا رہا۔▪️ میں نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، مگر انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا۔▪️ 26 نومبر اور 9 مئی کے واقعات میں ہمارے نہتے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی۔▪️ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتوں کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔▪️ سیاسی جلسوں پر ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ کم عمر بچوں کو بھی مقدمات میں نامزد کیا جاتا ہے▪️ دوسری جانب ڈرون حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود قانونی کارروائی نہیں ہوتی۔






