*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انڈونیشی سرمایہ کاروں کو سندھ میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے منگل کے روز انڈونیشیا کے سرمایہ کاروں کو سندھ کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ کیٹی بندر پورٹ کی ترقی، کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فسیلیٹیشن سینٹر کے قیام اور کم لاگت توانائی سے چلنے والے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ڈیٹا سینٹرز کے قیام جیسے اہم منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔انڈونیشیا پاکستان انویسٹمنٹ اینڈ بزنس فورم میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس، قابل تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور زرعی کاروبار سمیت مختلف شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ فورم پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مضبوط اقتصادی تعاون اور عملی کاروباری شراکت داری کی راہ ہموار کرے گا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے نوجوان ڈاکٹر آکاش کمار کے قتل اور کراچی یونیورسٹی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی اور جرائم کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے گندم اور آٹے کی موجودہ صورتحال پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کو درپیش ہے، جبکہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان بھی کیا۔فورم سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے انڈونیشیا کے قونصل جنرل مدذاکر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے تقریب کے انعقاد اور دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور طویل المدتی تعاون پر مبنی تاریخی تعلقات موجود ہیں، جبکہ اقتصادی روابط میں مزید وسعت دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کر سکتی ہے۔وزیراعلیٰ نے سندھ کو پاکستان کی معیشت کا محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی ملک کا مالیاتی اور تجارتی مرکز ہے، جہاں عالمی معیار کی بندرگاہیں، صنعتی زونز، مالیاتی ادارے اور متحرک کاروباری ماحول موجود ہے۔انہوں نے سندھ کے سرمایہ کاری منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں کیٹی بندر پر نئی گہرے سمندر کی بندرگاہ تعمیر کر رہی ہے، جس سے تجارت، لاجسٹکس اور بحری کاروبار کے شعبوں میں نمایاں مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فسیلیٹیشن سینٹر قائم کیا جائے گا، جہاں سرمایہ کاروں کو کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک ہی جگہ تمام سہولیات اور معاونت فراہم کی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے لیس جدید ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا، جنہیں کم لاگت اور پائیدار توانائی کے ذریعے چلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ طرز حکمرانی میں اصلاحات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ڈیجیٹل تبدیلی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں بالخصوص شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ادویہ سازی، مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں۔بعد ازاں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈاکٹر آکاش کمار کے قتل کی شدید مذمت کی اور مقتول کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے اور پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرگرم عمل ہے۔امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا، ایسے عناصر کی جانب سے دہشت گردی کے نئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جو ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھرتے ہوئے خطرات کا جائزہ لینے اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حال ہی میں اعلیٰ سطح کا سیکیورٹی اجلاس منعقد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گرد نیٹ ورکس اور جرائم پیشہ عناصر پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے باہمی رابطے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رینجرز ہیڈکوارٹر پر حالیہ حملے میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔سید مراد علی شاہ نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو پہلے بھی دہشت گرد نیٹ ورکس سے پاک کیا جا چکا ہے اور حکومت کسی بھی جرائم پیشہ گروہ کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کو مسترد کرتے رہیں گے اور قومی استحکام کی حمایت کریں گے۔گندم کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تسلیم کیا کہ آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے تاہم صوبائی حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ کاشتکاروں کو ان کی گندم کی مناسب قیمت ملے۔انہوں نے بتایا کہ گندم کی خریداری سے متعلق مشاورت کے دوران وفاقی حکومت نے ملک بھر میں یکساں سرکاری خریداری قیمت برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ قومی حکمت عملی تجویز کی تھی۔ سندھ نے فی من گندم 4 ہزار روپے امدادی قیمت کی تجویز دی تھی جبکہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب، نے 3 ہزار 500 روپے فی من کی قیمت کی حمایت کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی صوبہ اپنی خریداری کا ہدف مکمل حاصل نہیں کر سکا کیونکہ متعدد کاشتکاروں نے اپنی گندم زیادہ قیمت دینے والی منڈیوں میں فروخت کی۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں اور لائسنس یافتہ ذخیرہ اندوزوں سے حاصل کردہ معلومات کے ذریعے گندم ذخیرہ کرنے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئی گندم قانونی طریقہ کار کے تحت ضبط کی جائے گی اور اسے سرکاری نرخ 3 ہزار 500 روپے فی من پر خریدا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی گندم اور آٹے کی صورتحال پر اجلاس طلب کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کو درپیش ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گندم کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ ویٹ ایکسچینج قائم کرنے کی تجویز کی حمایت میں اتفاق رائے بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد کاشتکاروں کو مناسب معاوضہ فراہم کرنا اور تاجروں کو مناسب منافع کی اجازت دینا ہے تاہم ناجائز منافع خوری کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ایسی جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جو کاشتکاروں اور صارفین دونوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائے۔

جواب دیں

Back to top button