وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت ہنزل اور 16 میگاواٹ نلتر ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے حوالے سے اجلاس

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت ہنزل اور 16 میگاواٹ نلتر ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہنزل پاور پروجیکٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، کنسلٹنٹ اور ویڈیو لنک کے ذریعے ایف ڈبلیو او (FWO) کے بریگیڈیئر خان جابر ہمایوں، پروجیکٹ منیجر فلک تاج اور کرنل شہباز نے شرکت کی، جبکہ 16 میگاواٹ نلتر پاور پروجیکٹ کے پروجیکٹ منیجر اور ایچ ایم سی (HMC) کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہنزل پاور پروجیکٹ اور 16 میگاواٹ نلتر پاور پروجیکٹ گلگت کے عوام کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان اہم منصوبوں میں مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ یہاں کے عوام گرمیوں میں بھی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں جس سے نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ گزشتہ 6 سالوں سے ٹینڈر ہونے کے باوجود ہنزل پاور پروجیکٹ پر خاطر خواہ کام نہیں ہو رہے۔ بجلی کے منصوبے ماضی میں غیر ضروری طور پر 20، 20 سال تک التوا کا شکار رہے ہیں جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام کی زندگی اجیرن بنی رہی، لیکن اب بجلی کے ان منصوبوں میں مزید کسی قسم کی تاخیر قابلِ قبول نہیں۔وزیر اعلیٰ نے ایف ڈبلیو او کے بریگیڈیئر خان جابر ہمایوں اور پروجیکٹ منیجر فلک تاج کی سفارش پر کہا کہ آئندہ 2 ماہ میں 40 میگاواٹ ہنزل پاور پروجیکٹ کی ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرتے ہوئے ایکنک (ECNEC) سے اس کی منظوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس منصوبے سے متعلق ضروری انتظامی امور کو مکمل کرکے 2 ماہ کے اندر عملی کام شروع ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے تاکہ آئندہ ڈیڑھ سال میں اس اہم منصوبے کو مکمل کر کے عوام کو بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ 16 میگاواٹ نلتر پاور پروجیکٹ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ 31 اگست کو صوبائی کابینہ کے ہمراہ اس منصوبے کا دورہ کر کے اس کا افتتاح کریں گے، اور نلتر پاور پروجیکٹ کی تکمیل میں اب مزید کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button