ڈپٹی کمشنر لاہور کا تحصیل نشتر میں میونسپل سروسز ،کاہنہ میں صفائی اور نکاسی آب کا جائزہ

ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے میونسپل سروسز کی بہتری اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تحصیل نشتر کے علاقے کاہنہ کا تفصیلی دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے صفائی ستھرائی، نکاسی آب، جوہڑوں کے خاتمے اور غیر قانونی لٹکتی تاروں سمیت مختلف انتظامی امور کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ اس دورے کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو حافظ کریم داد چغتائی، چیف آفیسر ایم سی ایل کلیم یوسف، اسسٹنٹ کمشنر نشتر محمد سلیم آسی اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان بھی ڈی سی لاہور کے ہمراہ موجود تھے جبکہ اے سی نشتر نے ڈپٹی کمشنر کو تحصیل کے مجموعی انتظامی امور اور سروس ڈیلیوری کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی۔ فیلڈ مانیٹرنگ کے دوران ڈپٹی کمشنر لاہور نے کھلے پلاٹوں اور نشیبی جگہوں پر بارش کے پانی کے ٹھہراؤ اور سٹیگنینٹ واٹر پوائنٹس کی موجودگی پر شدید برہمی اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واسا حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ ہیوی مشینری کا استعمال کر کے ان مقامات سے پانی کا آج ہی مکمل اخراج ممکن بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کھلے پلاٹوں میں پانی کی موجودگی نہ صرف تعفن پیدا کرتی ہے بلکہ یہ ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کے پھیلاؤ کا باعث بھی بنتی ہے، لہٰذا ایسے تمام پوائنٹس پر مچھر مار سپرے اور انسداد ڈینگی کی کارروائیاں فوری طور پر تیز کی جائیں تاکہ شہریوں کی صحت کا تحفظ یقینی ہو سکے۔ ڈپٹی کمشنر نے ایم سی ایل اور ویسٹ مینجمنٹ ٹیموں کو ہدایت کی کہ شہر بھر میں صفائی کے انتظامات کو مثالی بنایا جائے اور کچرے کی بروقت منتقلی کے ساتھ "زیرو ویسٹ” مہم پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے، کیونکہ صفائی کے معاملات میں کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ بارشوں کے تناظر میں انہوں نے واسا کو تمام ڈسپوزل سٹیشنز کو مکمل استعداد پر فعال رکھنے اور نشیبی علاقوں میں مشینری کی فوری دستیابی کو برقرار رکھنے کا حکم دیا جبکہ متعلقہ محکموں کو غیر قانونی لٹکتی تاروں کو فوری ہٹانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ڈی سی لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز کا کہنا تھا کہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا اور میونسپل سروسز میں واضح بہتری لانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس مشن کی کامیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button