*گڈ گورننس پر بحث مقامی حکومتوں کے تناظر میں* تحریر:زاہد اسلام

دور حاضر میں ہر جگہ گڈ گورننس زیر بحث ہے یہ مقصد بھی ہے اور مقصد کے حصول کی راہ بھی ہے اپنے مفہوم اور معنی کے لحاظ سے مراد کسی بھی ادارے یا حکومتی شکل کی بہتر مینجمنٹ لی جاتی ہے۔دوسرے لفظوں میں گڑگورننس ایک نسبتی اصطلاح ہے۔ یعنی کسی خاص حلقہ، ادارہ، تنظیم یا حکومتی درجہ(قومی ملکت، صوبائی درجہ یا مقامی حکومت)کی بہتر مینجمنٹ اور ترقی کا سفر ہی مراد لی جاتی ہے۔’گڈگورننس ’کے چند بنیادی سٹون یا شرائط ہیں۔جنہیں ہم گڈ گورننس کا معروضی اظہار بھی کہہ سکتے ہیں۔ جو درج ذیل ہیں۔-1 شفافیت ہو۔-2 شراکت داری۔-3سب کی شمولیت ہو۔-4 جواب دہی اور احتساب ہو۔-5 احساس ذمہ داری ہو۔-6 قانون،قواعد کا طلاق ہو۔-7 ہر کسی سے منصفانہ سلوک ہو۔-8 بااثر اور مستعد ہو۔ یہ آٹھ ستون یا اصول کہہ لیں۔ جن پر”گڈ گورننس’کو پرکھا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ معیارات ہیں۔ جو ایک اچھی حکومت۔حکمرانی کے انداز میں نظر آتی ہو۔ تو دنیا بھر میں تعین کیا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کے سٹیزن عوام کیسے ماحول اور کیسی حکومت کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یقینی طور پر ہر حکومت اس پیمانہ پرکلی طور پر پورا نہ بھی اترتی ہو تو بھی رجحان سے منزل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔پنجاب میں ملکی تاریخ میں پہلی بار خاتون وزیراعلی کی حکومت موجود ہے۔جس کے فی الحال دو سال مدت پوری ہوتی ہے۔ ان دو سالوں میں صوبہ پنجاب کی طرف گیا ہے۔ ترقی کی رفتار کیا رہے۔ گڈ گورننس کے معیارت کہاں تک مکمل ہوتے نظر آئے۔اگر ہم ان مروجہ معیارات کی بنا پر عمومی جائزہ لیں۔تو تسلی بخش اقدامات زیادہ نظر آتے ہیں حکومت کی مستعدی اور موثر پن تو بجا طور پر نظر آتا ہے۔ ادارہ جاتی اکاؤنٹیبلٹی بھی نمایا ں ہے۔ عوام کی سہولیات زندگی کی فراونی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سہولیات زندگی کا حجم اور کوالٹی بھی بہتر ہورہی ہے۔کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔ تو کوئیک ایکشن بھی ہوتا ہے۔ صوبہ کی چیف ایگزیکٹو جب خود متحرک ہو تو نگرانی بھی موثر ہوتی ہے۔ یعنی حکومت زیادہ Vigilent ہو جاتی ہے۔ جس کے باعث عوام کے سکون میں اضافہ ہوتا ہے اور پھر کچھ حوالوں سے ترقی کی طرف پیشرفت ہوتی ہے۔ اگر ہم ملکی اور صوبوں کے تناظر میں دیکھیں تو پنجاب کے حالات بہت حوالوں سے نسبتا بہتر ہیں۔ مگر کچھ حوالوں سے ابھی بھی تشنگی باقی ہے۔ ان میں سر فہرست ادارہ جاتی فعالیت کا فقدان ہے۔ ساری گڈ گورننس کا دارومدار چیف آفیسر کی مستعدی اور احساس ذمہ داری تک محدود ہے۔ مگر لوکل گورنمنٹ کا قانون بھی ہر شہری کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ان ترقیاتی منصوبوں منصوبوں بارے یا مقامی حکومتوں کی کارکردگی بارے معلومات حاصل کر سکیں اور پھر معلومات تک رسائی کا قانون بھی اداروں کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی اور منصوبوں بارے معلومات کو پرو ایکٹو Pro-Activeانداز میں عام کریں اور نمایاں انداز میں عوام کو باخبر کریں۔ اپنی ویب سائٹس کے ذریعے بھی اور منصوبوں کی جگہوں پر نمایا تشیری بورڈ لگا کر بھی عام کریں مگر کہیں نظر نہیں آتا۔ مثال دیکھیں !اب لاہور کی نہر کنارے روڈ پر ٹھوکر سے بحریہ ٹاؤن تک سپیڈو بس چلا دی ہے۔ جو یقینا اچھا قدم ہے۔ سہولت بڑھے گی۔ مگر یہ تو سوچا نہیں کہ اس سڑک کے اس حصے میں ٹریفک روانی کی گنجائش کیا ہے۔ جو سڑک صرف چھوٹی گاڑیوں کی روانی بھی دھیما کرتی ہے وہاں بڑی سپیڈو بس کیا ایشوز پیدا کرے گی۔ نہر کنارے پختہ نہیں ہیں۔بڑے بڑے درخت اسنادہ ہیں۔ مناسب انتظامات کیے بغیر ہیوی ٹرانسپورٹ مشکلات ہی اضافہ کر سکتی ہے۔ کیا ہم اسے گڈ گورننس کہیں گے۔ ادارہ جاتی حکمرانی نداردہے۔ وزیروں کا نوٹس لینا اور احکامات جاری کرنا ہی گڈ گورننس کی ساری شرائط پورا نہیں کرتا۔ کچھ مزید تقاضے بھی ہوتے ہیں،یہاں ہم صوبائی حکمرانی کے تناظر میں پنجاب کی مقامی حکومتوں کا جائزہ لیں گے۔پنجاب میں مقامی حکومتیں موجود تو ہیں مگر ان کی گورننگ کونسلیں نہیں ہے اور رائج الوقت قانون کے مطابقت میں بھی نہیں ہے۔ اس کی طرف پیشرفت جاری تو ہے۔ مگر رفتار بہت دھیما ہے۔ شکوک و شبہات زیادہ ہوتے ہیں۔ آئے دن بحث جاری ہوتی ہے کہ لوکل گورنمنٹ کے انتخابات ہوں گے کہ نہیں۔بہرحال یہ سلسلہ تو چلتا رہے گا۔ میں آج دوحوالوں سے جائزہ لوں گا۔ پنجاب میں ترقیاتی کام بڑی تیز رفتار ی سے جا رہی ہیں۔سارے بڑے شہروں میں نت نئی سکیمیں جاری ہیں۔ غرضیکہ انفراسٹرکچر ترقی تو بلا شبہ جاری ہے اور نتیجہ عوام کے لیے بہتر سہولیتیں میسر آئیں گی۔ مگر ہر ترقیاتی کام کی انجام دہی میں روایتی کچجاپن نظر آتا ہے یعنی اچھا کام مگر بے ڈھنگے پن میں انجام دیا جاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button