کراچی(بلدیات ٹائمز)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع ملیر میں گلشنِ حدید موڑ تا اللہ والی چورنگی سڑک کی تعمیر و بحالی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، جنرل سیکرٹری پی پی پی ضلع ملیر امداد جوکھیو، ایم پی اے ساجد جوکھیو، کے ایم سی سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، منتخب نمائندے اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو جدید سفری سہولیات کی فراہمی ترجیح ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے شہری زندگی میں آسانی لائی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 396 ملین روپے ہے جبکہ سڑک کی لمبائی 2.33 کلومیٹر اور چوڑائی 24 فٹ ہے۔ ضلع ملیر میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں اور اس منصوبے سے ٹریفک روانی میں نمایاں بہتری آئے گی. انہوں نے کہا کہ نکاسی آب کے لیے 2.59 کلومیٹر طویل ڈرینیج لائن تعمیر کی جائے گی جبکہ جدید ڈرینیج سسٹم شہریوں کو بارشوں میں ریلیف فراہم کرے گا۔ منصوبے میں 153 ہزار اسکوائر فٹ پیور شولڈر ایریا کے علاوہ 4 فٹ چوڑا ڈرین بھی شامل ہے تاکہ پانی کی موثر نکاسی یقینی بنائی جا سکے۔ میئر کراچی نے کہا کہ اسٹریٹ لائٹس اور پولز کی تنصیب بھی منصوبے کا حصہ ہے جس سے رات کے اوقات میں سفری سہولیات مزید بہتر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ملیر میں ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری ہے اور ان اقدامات سے شہریوں کو بہتر سفری سہولیات اور معیاری انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے گا۔مئیر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کے درمیان رہی ہے اور آئندہ بھی عوامی خدمت کا سفر جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں سے منتخب پیپلز پارٹی کے نمائندے عوامی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتے اور مؤثر طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میئر کراچی نے گلشن حدید میں چالیس کروڑ روپے کی ترقیاتی اسکیم پر کام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کے ایم سی نے منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سڑک، جو گلشن حدید موڑ سے اللہ والی چورنگی تک جاتی ہے، اسے ازسرِنو تعمیر کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ انجینئرز کے مطابق جون کے پہلے ہفتے تک سڑک کی تعمیر اور دیگر کام کو مکمل کر لیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آسکیں۔میئر کراچی نے اس موقع پر اسٹیل ٹاؤن اور حدید کے علاقوں میں پانی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یہاں پانی اسٹیل مل سے فراہم کیا جاتا تھا، تاہم بعض عناصر کی جانب سے پانی کی فراہمی بند کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی نے اس مسئلے کے حل کے لیے اسٹیل مل انتظامیہ سے متعدد بار رابطے کیے اور انہیں قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی تاکہ عوام کو درپیش پانی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ گلشن حدید میں پانی کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے پچاس لاکھ گیلن کے ریزروائر کی تعمیر اور نئی لائنیں بچھانے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واٹر کارپوریشن کی ٹیم کو عید سے قبل پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اور گلشن حدید کے عوام کو عید سے پہلے یہ منصوبہ مکمل کر کے “عیدی” دی جائے گی۔ اس منصوبے کے لیے بیرون ملک سے خصوصی پمپ بھی منگوائے جا رہے ہیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ حال ہی میں 1.8 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے بھینس کالونی فلائی اوور کا افتتاح کر چکے ہیں، جبکہ ناصر جمپ سے ابراہیم حیدری ریڑھی گوٹھ جانے والی سڑک کا سنگ بنیاد بھی رکھا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گڈاپ میں کمیونٹی سینٹر، میمن گوٹھ کی سڑک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوکنڈی قبرستان کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور اس کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ہندو پاڑہ، یوسی چوکنڈی کے مکینوں کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی سولر سسٹم کے ساتھ پکے مکانات تعمیر کر رہی ہے تاکہ انہیں بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ کہ کے ایم سی کسی سیاسی نشان کی نہیں بلکہ عوامی خدمت کی علامت ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں کراچی کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ترقیاتی کاموں کا سال ہے جس میں 46 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جبکہ اس کے علاوہ مزید ساڑھے آٹھ ارب روپے بھی شہر پر لگائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس آئی سی وی ڈی کا چیسٹ پین یونٹ قائم کر دیا گیا ہے جبکہ گھگر کے اطراف ایک نیا ایس آئی سی وی ڈی سینٹر بھی بنایا جائے گا۔ میئر کراچی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور پر عملدرآمد ہماری ذمہ داری ہے اور شہر کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رہیں گے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ لسانی سیاست نے ہمیشہ کراچی کو نقصان پہنچایا ہے اور شہر کی ترقی کے لیے تقسیم کی باتیں کرنے کے بجائے آئین پر عمل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر سندھ کی تقسیم کی بات کرتے ہیں، حالانکہ دیگر صوبوں میں اس طرح کی زبان استعمال نہیں کی جاتی۔ میئر کراچی نے کہا کہ گورنر ہاؤس سندھ کے وسائل عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں اور عوامی نمائندوں کو ذمہ دارانہ گفتگو کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی بھینس کالونی فلائی اوور کی افتتاحی تقریب میں آئین کی پاسداری پر زور دیا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ آئین پر عملدرآمد پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ٹی پی ون سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کو آپریشنل کر دیا گیا ہے اور اس کی لیبارٹری رپورٹ بھی موصول ہو چکی ہے۔ میئر کراچی نے بتایا کہ شہر کی صنعتیں روزانہ تقریباً 15 کروڑ گیلن پانی استعمال کرتی ہیں، اس لیے میٹھے پانی کے تحفظ کے لیے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس سے حاصل ہونے والے ری سائیکل پانی کو صنعتی استعمال میں لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف پانی کی بچت ہوگی بلکہ ماحولیاتی بہتری میں بھی مدد ملے گی۔






