سول سروسز اکیڈمی لاہور کے وفد کا کے ایم سی ہیڈ آفس کا دورہ، میونسپل کمشنر کی تفصیلی بریفنگ

سول سروسز اکیڈمی (پی اے ایس کیمپس) لاہور،14ویں ڈومین کے ایم سی ایم سی۔ پی اے ایس کے وفد نے مطالعاتی دورے میں صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی کا دورہ کیا۔میونسپل کمشنر کے ایم سی سمیرا حسین نے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور شہر کراچی کی تاریخ، بلدیاتی ڈھانچے اور ترقیاتی امور پر تفصیلی بریفنگ دی،اس موقع پر میئر کراچی کے سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن اخلاق احمد یوسفزئی بھی موجود تھے، میونسپل کمشنر کے ایم سی سمیرا حسین نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کراچی کی تاریخی اہمیت، انتظامی ارتقاء اور بلدیاتی نظام کے مختلف ادوار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے بلدیاتی نظام کی بنیاد 1846 میں رکھی گئی، 1852 میں اس بورڈ کو میونسپل کمیشن اور 1853 میں میونسپل کمیٹی میں تبدیل کیا گیا جبکہ 1933 میں اسے میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا بعد ازاں 1976 میں کراچی میونسپل کارپوریشن کو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں تبدیل کر دیا گیا،انہوں نے بلدیاتی نظام کی مزید پیشرفت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 1979 میں سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس نافذ ہوا، 2001 میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی 18 ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشنز اور 178 یونین کونسلز کے ساتھ قائم کی گئی، 2011 میں کے ایم سی اور پانچ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز کے ساتھ ڈسٹرکٹ کونسل کراچی بحال ہوئی جبکہ 2013 میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، سات ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز اور ایک ڈسٹرکٹ کونسل کا نظام متعارف ہوا، 2021 میں کراچی ڈویژن میں 25 ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز قائم کی گئیں اور صوبہ سندھ میں واحد میٹروپولیٹن کارپوریشن کے طور پر کے ایم سی کام کر رہی ہے،انہوں نے وفد کو کراچی کے تاریخی مقامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا

جن میں خالق دینا ہال و لائبریری، موہٹہ پیلس میوزیم، میری ویدر کلاک ٹاور، قائداعظم ہاؤس میوزیم، فریئر ہال، چوکنڈی کے مقبرے، کے ایم سی کی مرکزی عمارت، ایمپریس مارکیٹ، سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل اور جہانگیر کوٹھاری پریڈ شامل ہیں،میونسپل کمشنر کراچی سمیرا حسین نے کہا کہ کراچی ملک کی اقتصادی شہ رگ اور کمرشل حب کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کی ترقی کا براہِ راست انحصار کراچی کی ترقی سے وابستہ ہے،انہوں نے کہا کہ صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے سے نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کے لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہونے سے مختلف مہارتوں کی حامل افرادی قوت تیار ہوگی جبکہ شہری انفراسٹرکچر کی بہتری سے روزمرہ مسائل میں کمی آئے گی اور شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب اپنے شہر کو ”اون“کریں اور اس کی بہتری میں اپنا کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم اپنے گھروں کو صاف رکھتے ہیں اسی طرح اپنے شہر کو بھی صاف ستھرا رکھنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، کراچی کی قدر کریں کیونکہ یہ ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں،بریفنگ کے دوران بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کردار، شہری خدمات اور شہر کے انتظامی ڈھانچے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی اور وفد کو مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا گیا، آخر میں وفد کے سربراہ کو میونسپل کمشنر کے ایم سی سمیرا حسین نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے یادگاری شیلڈ بھی دی۔

جواب دیں

Back to top button