کے ایم سی اور ضلعی انتظامیہ کا صدر میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی کے لیے پارکنگ فری زون کا پائلٹ منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں شہر میں ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور طویل عرصے سے موجود ٹریفک انتظام کے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ٹریفک جام، غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات جیسے اہم امور کا جائزہ لیا گیا اور بہتر شہری نظم و ضبط اور ہموار ٹریفک کے لیے کئی بڑے پالیسی فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے دوران میئر کراچی نے اس بات پر زور دیا کہ ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری شہر کی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے کیونکہ ٹریفک جام نہ صرف شہریوں کا قیمتی وقت ضائع کرتا ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں اور کراچی کے مجموعی تشخص پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس تناظر میں صدر ٹاؤن میں پارکنگ فری زونز پر سختی سے عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا۔پہلے مرحلے میں پارکنگ فری زون کا پائلٹ منصوبہ زیب النساء اسٹریٹ اور عبداللہ ہارون روڈ پر شروع کیا جائے گا۔ ان اہم تجارتی شاہراہوں کا انتخاب زیادہ ٹریفک، بار بار ہونے والے ٹریفک جام اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے کیا گیا ہے جو گاڑیوں کی روانی اور پیدل چلنے والوں کی آمد و رفت میں شدید رکاوٹ بنتی ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ یہ کارروائی ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی مشترکہ کوششوں سے کی جائے گی۔ مؤثر عمل درآمد، ہم آہنگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کی نگرانی اور عملی مسائل کے حل کی ذمہ دار ہوگی۔

نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دونوں سڑکوں کو سیف سٹی سرویلنس سسٹم اور ٹریفک مینجمنٹ سسٹم سے منسلک کیا جائے گا۔ پارکنگ فری زونز میں غیر قانونی طور پر کھڑی گاڑیوں کی نشاندہی کیمروں کے ذریعے کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو براہ راست ای چالان جاری کیے جائیں گے۔ میئر کراچی نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔مزید برآں فٹ پاتھوں پر تجاوزات کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ زیب النساء اسٹریٹ اور عبداللہ ہارون روڈ پر فٹ پاتھوں پر ریڑھی لگانے والوں، عارضی اسٹالز اور پیدل راستوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ میئر کراچی نے زور دیا کہ فٹ پاتھ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے ہیں اور کسی صورت ان کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے وضاحت کی کہ یہ منصوبہ صدر ٹاؤن میں بطور پائلٹ شروع کیا جا رہا ہے اور کامیابی کی صورت میں اگلے مرحلے میں اسے کراچی کے دیگر علاقوں تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی انتظامیہ کراچی کی بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید ٹریفک مینجمنٹ طریقوں اور پائیدار شہری حل اپنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

میئر کراچی نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے کام کریں گے اور شہر کی ٹریفک صورتحال بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات جیسے دیرینہ مسائل کا فیصلہ کن حل نکالا جائے گا۔عوام سے اپیل کرتے ہوئے میئر کراچی نے شہریوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز پر زور دیا کہ وہ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے تعاون کریں کیونکہ عوامی تعاون ہی کراچی کو ایک منظم، خوبصورت اور قابلِ رہائش شہر بنانے کے لیے ضروری ہے۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی، ایس ایس پی جنوبی، سینئر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

جواب دیں

Back to top button