میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے نارتھ ناظم آباد میں تیموریہ لائبریری بحالی منصوبے کا افتتاح کردیا

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع وسطی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں 15 کروڑ روپے کی لاگت سے تیموریہ لائبریری بحالی کے منصوبے کا افتتاح کردیا، اس موقع پر کے ایم سی سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان صدیقی، منتخب نمائندے اور دیگر بھی موجود تھے، میئر کراچی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تعلیمی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،حکومت سندھ اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے لائبریریوں کی بحالی عوامی سہولیات کی بہترین مثال ہے، انہوں نے کہا کہ تیموریہ لائبریری کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے جس سے طلبہ، طالبات اور علم دوست شہریوں کو معیاری تعلیمی ماحول میسر آئے گا،مستقبل کے معماروں کو یہاں مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی،کراچی میں علم و ادب کے فروغ کے لیے لائبریریوں کی تزئین و آرائش اور بحالی ایک اہم قدم ہے جبکہ تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہر کی مجموعی ترقی بلدیاتی اداروں کی اولین ترجیح ہے،انہوں نے کہا کہ ماضی میں تیموریہ لائبریری شدید بگاڑ کا شکار تھی، یہاں سینکڑوں طلبہ امتحانات کی تیاری کے لیے آتے تھے لیکن بیٹھنے اور مطالعے کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں تھیں، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور ڈاکٹر عاصم حسین کے تعاون سے اس منصوبے کو مکمل کیا گیا اور لائبریری کو ایک بار پھر عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے،

انہوں نے کہا کہ لائبریری کے اطراف سیوریج کی صورتحال خراب تھی جس پر متعلقہ افسران کو فوری طلب کیا گیا،انہوں نے واضح ہدایت دی کہ اگر کہیں بھی کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ان کا کہنا تھا کہ الزام تراشی کے بجائے اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا کیونکہ شہری صرف مسائل کا حل چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ یہ سال کراچی کے لیے ترقیاتی کاموں کا سال ثابت ہوگا اور بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر پر خطیر رقم خرچ کرے گی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کے مختلف اضلاع میں 26 سڑکوں کی تعمیر و بحالی کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے جن پر ساڑھے پانچ ارب روپے کی لاگت سے ازسرنو تعمیراتی کام کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ ان سڑکوں پر رواں ماہ کے اختتام تک عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں،میئر کراچی نے بتایا کہ جن اہم شاہراہوں کو بہتر بنایا جائے گا ان میں یونیورسٹی روڈ، اولڈ سٹی کے مختلف راستے، ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ اور مرزا آدم خان روڈ شامل ہیں، مرزا آدم خان روڈ لیاری کے عقب سے گارڈن کی جانب جاتی ہے اور لیاری ایکسپریس وے سے منسلک ہوتی ہے، جو دھوبی گھاٹ روڈ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، ان شاہراہوں کی بحالی سے ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آئے گی،انہوں نے کہا کہ شہر میں ٹریفک دباؤ کم کرنے کے لیے تقریباً چار ارب روپے کی لاگت سے کراچی کے چار کوریڈورز بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں، پہلے مرحلے میں حبیب یونیورسٹی سے پہلوان گوٹھ تک جبکہ دوسرے مرحلے میں شارع فیصل سے ناتھا خان تک کوریڈور بنایا جائے گا، جو گلستانِ جوہر جانے والوں کے لیے ایک متبادل راستہ ہوگا، اس منصوبے کے ٹینڈر مکمل کر لیے گئے ہیں اور چند روز میں تعمیراتی کام شروع کر دیا جائے گا،میئر کراچی نے کہا کہ راشد منہاس روڈ اور سر شاہ سلیمان روڈ پر بھی کوریڈورز کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے جس سے شہر میں آمد و رفت مزید آسان ہو جائے گی، انہوں نے تجاوزات کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں سڑکوں اور نالوں پر غیر قانونی قبضوں کے باعث ترقیاتی کام متاثر ہوئے تاہم بلدیہ عظمیٰ کراچی وسائل کو احسن انداز سے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے،انہوں نے کہاکہ کورنگی کازوے پل عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ مرغی خانہ پل کو مارچ تک ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا جس سے لانڈھی اور قائد آباد کے مکینوں کو بڑی سہولت حاصل ہوگی، اسی طرح کیٹل کالونی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے پل کا کام فروری تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہمارا انتخابی منشور عوام کی زیادہ سے زیادہ خدمت اور شہری مسائل کا حل ہے، دستیاب وسائل کو عوام پر خرچ کرنا ہی ہماری پالیسی ہے، انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا نظریہ خدمت ہمارے لیے رہنما اصول ہے اور اسی سوچ کے تحت کراچی کی ترقی اور بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کو ذاتی ملکیت سمجھنے کی سوچ ناقابل قبول ہے، ان کا کہنا تھا کہ چند سو افراد کے احتجاج کے باعث لاکھوں شہریوں کو مشکلات میں ڈالنا عوام دشمن رویہ ہے، انہوں نے کہا کہ شہر کے مختلف ٹاؤنز میں اختیارات کے باوجود عملی کام کے بجائے احتجاجی سیاست کی جارہی ہے،انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کے سانحے پر وفاقی سطح پر ذمہ داران کی عدم موجودگی افسوسناک ہے، میئر کراچی نے واضح کیا کہ شہر کے ترقیاتی فنڈز عوام کی امانت ہیں اور ان کا استعمال شفاف طریقے سے شہر کی بہتری کے لیے کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ کراچی سب کا ہے اور اس کی خدمت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button