*عالمی بینک کے صدر کا دورہ لاڑکانہ، سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر نو کا جائزہ*

ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بانگا دس رکنی اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ منگل کے روز لاڑکانہ پہنچے جہاں موئن جو دڑو ایئرپورٹ پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔دورے کے دوران ورلڈ بینک کے صدر وزیراعلیٰ کے ہمراہ ضلع لاڑکانہ کی تحصیل ڈوکری کے گاؤں بہاول جت گئے، جہاں انہوں نے سیلاب سے متاثرہ گھروں کی کمیونٹی کی مدد سے تعمیرِ نو کا جائزہ لیا اور تباہ کن سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔

بہاول جت پہنچنے پر وفد کا مقامی افراد نے پُرجوش استقبال کیا۔ ورلڈ بینک کے صدر کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ حکومت سندھ اور ورلڈ بینک کے مشترکہ تعاون سے گاؤں میں سیلاب سے متاثرہ 145 گھروں کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے جن میں سے 83 فیصد مالکانہ اسناد خواتین کو جاری کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کی خواتین بااختیار ہو رہی ہیں اور ہماری حکومت اس پروگرام کے ذریعے سماجی شمولیت کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ورلڈ بینک کے صدر نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) پروگرام کے تحت تعمیر شدہ گھروں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ وزیراعلیٰ مراد شاہ نے 21 لاکھ گھروں کی تعمیرِ نو کو تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے اسے دنیا کی سب سے بڑی بحالی کی کوششوں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹیز کو اپنی زندگیوں کی بحالی کے لیے بااختیار بنایا جا رہا ہے اور یہ پروگرام ہنگامی ردعمل سے ترقی کرتے ہوئے ایک جامع بحالی ماڈل بن چکا ہے۔ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا نے پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ زمینی سطح پر ہونے والی ترقی سے بے حد متاثر ہیں۔ انہوں نے مقامی افراد سے ملاقات کی، ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور کشمور سے تعلق رکھنے والے ایک سکھ خاندان سے بھی ملاقات کی جو اپنے تجربات بیان کرنے کے لیے بہاول جت آیا تھا۔ صدر اور وزیراعلیٰ نے اس خاندان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔اجے بانگا نے اس اقدام کو اس نوعیت کا دنیا کا پہلا کمیونٹی کی قیادت میں ہونے والا گھروں کی تعمیرِ نو کا پروگرام قرار دیا جبکہ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس ماڈل کے تحت خاندان اپنے گھر خود تعمیر کرتے ہیں جس سے آمدنی کمیونٹی کے اندر ہی رہتی ہے۔ ہر گھر کی تعمیر مقامی مزدوروں کے لیے مستقل اجرتی روزگار پیدا کرتی ہے جس سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کو براہِ راست فائدہ ہوتا ہے۔مراد شاہ نے وفد کو بتایا کہ حکومت سندھ ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے 21 لاکھ گھروں کی تعمیرِ نو کر رہی ہے جس میں اہم سنگِ میل حاصل کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 15 لاکھ 50 ہزار سے زائد مستحقین کے بینک اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں 15 لاکھ گھر زیرِ تعمیر ہیں جبکہ 7 لاکھ 50 ہزار گھر مکمل ہو چکے ہیں۔ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا نے بتایا کہ ایس پی ایچ ایف کے آغاز سے اب تک ورلڈ بینک 95 کروڑ ڈالر کی معاونت فراہم کر چکا ہے جس میں ابتدائی 50 کروڑ ڈالر کے بعد مزید 45 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر مستحق خاندان کو تقریباً 1400 ڈالر مالیت کی رہائشی معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور پروگرام میں سب سے غریب اور کمزور گھرانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ مراد شاہ نے بتایا کہ ہر مستحق گھرانے کو باضابطہ بینکاری سہولت فراہم کی گئی ہے اور 10 لاکھ سے زائد خواتین کو زمین کی ملکیت کے حقوق مل چکے ہیں جبکہ تعمیرِ نو کے عمل کے ساتھ مزید اسناد جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 8 لاکھ خواتین کو براہِ راست مالی فوائد فراہم کیے جا چکے ہیں جس سے نقد امداد اور روزگار کے مواقع کے ذریعے خواتین کی معاشی خودمختاری مضبوط ہو رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتین کے ملکیتی حقوق گھریلو تحفظ کو مضبوط بنانے اور مقامی معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں جس سے ورلڈ بینک کے صدر نے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ خواتین کی شمولیت گھریلو آمدنی اور کمیونٹی کی مضبوطی کو بڑھا رہی ہے۔مراد شاہ نے کہا کہ پروگرام کی کامیابی مضبوط حکمرانی کے نظام پر مبنی ہے جسے جدید مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) کی مدد حاصل ہے جو شفافیت اور مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں براہِ راست فنڈز کی منتقلی کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس پی ایچ ایف کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے اور اعلیٰ احتسابی معیار برقرار رکھنے کے لیے ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کے ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔

ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا نے کہا کہ محفوظ رہائش کے ساتھ صاف پانی، نکاسیٔ آب، غذائیت اور طویل مدتی فلاح و بہبود کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام انسانی وسائل کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے اور اس بات کی عالمی مثال ہے کہ کمیونٹی پر مبنی بحالی کس طرح روزگار پیدا کر کے سماجی شمولیت کو فروغ دے سکتی ہے۔وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ ہر تعمیر شدہ گھر تقریباً 160 دن کے مقامی اجرتی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے جبکہ منصوبے کی مجموعی لاگت کا تقریباً 25 فیصد حصہ براہِ راست مزدوری پر خرچ ہو رہا ہے جس سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور مستفید ہو رہے ہیں۔دورے کے دوران ورلڈ بینک کے صدر نے بھاول جت میں یادگاری طور پر امرود کا پودا بھی لگایا۔ انہوں نے کمیونٹی سینٹر کا دورہ کیا جہاں مقامی خواتین نے روایتی سندھی دستکاریوں، جن میں رِلیاں، ہینڈ بیگز، روٹی رکھنے کی ٹوکریاں اور بُنے ہوئے سامان شامل تھے، کی نمائش کی۔ صدر اور وزیراعلیٰ نے خواتین کے ساتھ روایتی رِلیوں پر بیٹھ کر ان کی کہانیاں سنیں اور خواتین مستحقین میں ملکیتی اسناد تقسیم کیں۔ اس موقع پر اجرک اور سندھی ٹوپیاں ثقافتی تحائف کے طور پر پیش کی گئیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انہیں سیلاب متاثرین کو رہائش فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ تعمیرِ نو کی مجموعی لاگت 600 ارب روپے سے زائد ہے جس میں ورلڈ بینک نے نمایاں مالی معاونت فراہم کی ہے جبکہ وفاقی حکومت اور دیگر شراکت داروں کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا نے تقریب سے اردو میں خطاب کرتے ہوئے مستحقین کو ملکیتی حقوق ملنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو ملکیتی اسناد ملی ہیں، یہ آپ کی آزادی ہے۔ انہوں نے خواتین کی ثابت قدمی اور صاف پانی کی فراہمی کو اہم کامیابی قرار دیا۔بعد ازاں ورلڈ بینک کے صدر اور وزیراعلیٰ نے موئن جو دڑو کا دورہ کیا جہاں صوبائی وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے گالف کارٹ کے ذریعے آثارِ قدیمہ کے مقام کا دورہ کیا، سر جان مارشل کی تاریخی گاڑی دیکھی اور سندھی موسیقی اور دستکاریوں پر مشتمل خصوصی ثقافتی تقریب میں شرکت کی۔ورلڈ بینک کے صدر نے عجائب گھر، قدیم اسٹوپہ جات اور پانچ ہزار سال پرانے نکاسیٔ آب کے نظام کا بھی دورہ کیا اور ماہرین آثارِ قدیمہ سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے موئن جو دڑو کو انسانی ذہانت کی شاندار ابتدائی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ثقافتی ورثے کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے عجائب گھر کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔ دورہ لاڑکانہ، ڈوکری اور موئن جو دڑو مکمل کرنے کے بعد ورلڈ بینک کے صدر اور وزیراعلیٰ کراچی واپس روانہ ہو گئے۔

جواب دیں

Back to top button