سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے 6.1 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے کورنگی کازوے پل کا افتتاح کیا اور کراچی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ حالیہ سانحہ گل پلازہ سے متاثرہ افراد کے لیے جامع امدادی، بحالی اور تعمیرِ نو اقدامات کا بھی اعلان کیا۔کورنگی کازوے پل کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور تمام شرکاء سے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الاخلاص پڑھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے نے پوری صوبے کو غمزدہ کر دیا ہے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ انسانی جان کے نقصان کا کوئی معاوضہ ممکن نہیں۔وزیراعلیٰ مراد شاہ صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر شاہ، صوبائی وزیر محنت سعید غنی اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے ہمراہ کورنگی کازوے پہنچے جہاں ان کا استقبال خصوصی معاون علی راشد، صوبائی سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد اور دیگر حکام نے کیا۔کورنگی کازوے منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پل خاص طور پر کورنگی اور گرد و نواح کے رہائشیوں اور صنعتی حلقوں کے لیے ایک دیرینہ وعدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے دوران یہ علاقہ منقطع ہو جاتا تھا اور شہر عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا تھا جس کے حل کے لیے تقریباً تین سال قبل یہاں پل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ پل کی تعمیر تقریباً ڈیڑھ سال قبل شروع ہوئی تاہم ڈیزائن سے متعلق مسائل کے باعث تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق نیا پل تقریباً 1.4 کلومیٹر طویل ہے اس میں چھ لینز ہیں، ہر جانب تین لینز اور اس کی تعمیر پر 6.135 ارب روپے سے زائد لاگت آئی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ کورنگی اور لانڈھی کے صنعتی علاقوں، روزانہ سفر کرنے والے شہریوں اور قریبی سہولیات بشمول انڈس اسپتال، ایس آئی یو ٹی، تعلیمی اداروں اور رہائشی آبادیوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق روزانہ تقریباً 50 لاکھ افراد اس پل کو استعمال کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کورنگی کازوے پل کراچی کے بگڑتے ہوئے انفراسٹرکچر کی بحالی کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ ذیلی تعمیراتی کام ابھی جاری ہیں، جن میں شاہراہِ بھٹو کو کورنگی روڈ سے منسلک کرنے کا کام بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہراہِ بھٹو کو عید تک یا عید کے فوراً بعد کھولنے کا ہدف ہے اور اگرچہ تقریباً ڈیڑھ سے دو ماہ کی تاخیر ہوئی ہے تاہم عید کے بعد یہ سڑک کورنگی روڈ سے ایم نائن تک فعال ہو جائے گی۔وزیراعلیٰ کو شہید بھٹو ایکسپریس وے منصوبے کے تحت تعمیر ہونے والے کنیکٹنگ لوپس اور گریڈ سیپریٹڈ انٹرچینج سے بھی آگاہ کیا گیا جو کورنگی، ڈی ایچ اے اور کاٹھوڑ (ایم نائن) ہائی وے کو آپس میں جوڑے گا۔ کورنگی اور قیوم آباد کے لیے دو داخلی اور دو خارجی راستے تعمیر کیے گئے ہیں تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر ہو اور اندرونی سڑکوں پر دباؤ کم ہو۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید بھٹو ایکسپریس وے کراچی کی معاشی شہ رگ ثابت ہوگا اور کنٹرولڈ ایکسس راہداریوں کے ذریعے دیرینہ ٹریفک مسائل کے حل میں مدد دے گا۔سانحہ گل پلازہ پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے حکومت کے اقدامات کی تفصیلات بیان کیں اورکہا کہ واقعے کو ایک ہفتے سے زائد وقت گزر چکا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ حکومت نے پہلے ہی دن ہر جاں بحق فرد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا تھا اگرچہ کوئی بھی رقم انسانی جان کے نقصان کا مداوا نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں خطاب کے دوران متاثرہ دکانداروں کے لیے مالی امداد کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک دکاندار دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو جاتے، سندھ حکومت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان اقدامات کی کابینہ سے جلد منظوری حاصل کر لی جائے گی۔مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ ہر متاثرہ دکاندار کو فوری طور پر 5 لاکھ روپے بطور گزارہ معاونت دی جائے گی تاکہ آئندہ دو ماہ کے دوران گھریلو اخراجات، بچوں کی فیس اور یوٹیلیٹی بلز ادا کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے، کاروباری نقصانات کے تخمینے اور ازالے کا عمل پہلے ہی شروع کر چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت آگ میں تباہ ہونے والے سامان اور اسٹاک کا معاوضہ بھی ادا کرے گی، جس میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری تصدیق اور ادائیگی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد عمارت مالکان نے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے دکانداروں کو جگہ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان کے مطابق کم از کم دو عمارتیں ایسی ہیں، ایک میں تقریباً 500 اور دوسری میں 350 دکانیں ہیں، جبکہ سرکاری پارکنگ پلازے اور دیگر عمارتوں میں بھی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 1,300 متاثرہ دکانوں کو دو ماہ کے اندر متبادل مقامات فراہم کیے جائیں گے تاکہ اس دوران تاجر دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔ اس عبوری مدت میں دکانداروں کی مدد کے لیے اضافی ادائیگیاں بھی کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے مزید اعلان کیا کہ سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے ہر متاثرہ دکاندار کو 1 کروڑ روپے تک کا بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا۔ حکومت اس قرض کی ضامن ہوگی، مارک اپ خود برداشت کرے گی اور بغیر کسی سفارش نامے کے قرض کے عمل کو سہل بنایا جائے گا۔
*گل پلازہ کی تعمیرِ نو:*
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت گل پلازہ کو نئے اور نظرثانی شدہ ڈیزائن کے ساتھ دوبارہ تعمیر کرے گی تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ضرورت ہوگی وہاں راہداریوں کو کشادہ کیا جائے گا تاکہ ہنگامی حالات میں محفوظ انخلا اور آمدورفت ممکن ہو سکے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ دوبارہ تعمیر ہونے والی عمارت میں فروخت یا کرایہ پر دینے کے لیے کوئی اضافی جگہ شامل نہیں کی جائے گی اور اس بات پر زور دیا کہ تجارتی مفادات کے بجائے حفاظتی پہلو کو ترجیح دی جائے گی۔
*گل پلازہ واقعے کی تحقیقات:*
انہوں نے تصدیق کی کہ گل پلازہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) پہلے ہی درج کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے میں 80 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ میں اس مرحلے پر کسی کا نام نہیں لوں گا، تاہم تحقیقات کے ذریعے جو بھی ذمہ دار ثابت ہوا اسے سزا دی جائے گی۔ادارہ جاتی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھی بعض خامیاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں، بشمول اسلام آباد، فائر سیفٹی آڈٹس کیے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اب تک مجموعی نتائج “اطمینان بخش نہیں” ہیں۔
*فائر سیفٹی:*
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے عمارتوں میں فائر سیفٹی کے حوالے سے دو سے تین اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کیے ہیں اور ان میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر عمارت کا آڈٹ کیا جائے گا اور ابتدا ان عمارتوں سے کی جائے گی جہاں لوگوں کی آمد زیادہ ہوتی ہے، بالخصوص تجارتی مراکز کیونکہ رمضان کے دوران بڑی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے نکلتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ ترجیح ان اقدامات کو دی جائے گی جو ایک ہفتے کے اندر مکمل کیے جا سکتے ہیں، جن میں فائر الارم کی تنصیب، پورٹیبل آگ بجھانے کا سامان، واضح طور پر نشان زد ہنگامی راستے، بغیر رکاوٹ انخلا کے راستے اور بجلی بند ہونے کی صورت میں رہنمائی کے لیے متبادل روشنی کا انتظام شامل ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کسی عمارت کے سروے کے بعد مالکان کو ایک ہفتے کی مہلت دی جائے گی تاکہ وہ ضروری حفاظتی سامان نصب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اچانک کارروائی نہیں کریں گے۔ خامیوں کو دور کرنے کے لیے معقول مہلت دی جائے گی، لیکن اگر بالکل بھی عمل درآمد نہ ہوا تو عمارت کو بلا جھجک سیل کر دیا جائے گا۔”وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ چھ ماہ کے اندر تمام تجارتی عمارتوں کے لیے آگ اور آفات سے متعلق حفاظتی ضوابط پر مکمل عمل درآمد لازم ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس حوالے سے قانونی فریم ورک پہلے سے موجود ہے اور سول ڈیفنس کے اداروں کو ان معاملات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔اجتماعی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تاجروں، ایوانہائے تجارت، تنظیموں، صنعتکاروں اور عمارتوں کے مالکان سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے سانحات دوبارہ پیش نہ آئیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کی تعمیرِ نو متاثرہ دکانداروں سے مشاورت کے ساتھ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دکانوں کی تعداد بالکل وہی رہے گی اور ایک بھی اضافی دکان تعمیر نہیں کی جائے گی اور تعمیرِ نو کے عمل میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔






