وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یومِ علیؑ، یومِ قدس اور جمعۃ الوداع کے انتظامات کا جائزہ لیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں تمام جلوسوں اور اجتماعات کے لیے فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ، ضیاء الحسن لنجار اور ریاض شاہ شیرازی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، انسپکٹر جنرل آف پولیس غلام نبی میمن، کمشنر کراچی حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ذوالفقار لاڑک اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں 13 مارچ کو یومِ القدس اور جمعۃ الوداع جبکہ 21 رمضان المبارک (11 مارچ) کو یومِ علیؑ کے سیکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ تقریبات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے صوبے بھر میں جامع سیکیورٹی، لاجسٹکس اور مواصلاتی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ مختلف رینجز میں مجموعی طور پر 22 ہزار 304 پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں کراچی (7 ہزار 908)، حیدرآباد (2 ہزار 317)، میرپورخاص (392)، شہید بینظیرآباد (1 ہزار 788)، لاڑکانہ (6 ہزار 757) اور سکھر (3 ہزار 142) شامل ہیں۔تعیناتی میں 8 ہزار 426 اہلکار اسٹیٹک ڈیوٹی، 3 ہزار 942 پکٹ ڈیوٹی، 3 ہزار 164 موبائل گشت اور ایک ہزار 488 موٹر سائیکل گشت پر مامور ہوں گے جبکہ اس کے علاوہ ریزرو اور اضافی آپریشنل عملہ بھی موجود ہوگا۔ پولیس گشت اور فوری ردعمل کے لیے 750 موبائل گاڑیاں اور 764 موٹر سائیکلیں بھی استعمال کرے گی۔وزیراعلیٰ کی ہدایات پر کراچی میں جلوسوں کے راستوں اور مقامات کا تفصیلی سروے مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ اہم مقامات پر اضافی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جلوسوں کے راستوں پر شہری انفراسٹرکچر کی مرمت کی جا رہی ہے اور ملحقہ عمارتوں اور تنصیبات کے کلیئرنس سرٹیفکیٹس حاصل کیے جا رہے ہیں تاکہ سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حساس مقامات اور جلوسوں کے راستوں کے اطراف کومبنگ اور انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز میں تیزی کر دی ہے۔ تیاری کے اظہار اور ممکنہ خطرات کی روک تھام کے لیے فلیگ مارچ بھی کیے جا رہے ہیں، جبکہ اہم مقامات پر اسنیپ چیکنگ اور اسکیلیٹن ڈپلائمنٹ برقرار رہے گی۔نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اسمارٹ آئی، آر او پی ای اور ٹی آر ایس سرویلنس سسٹمز کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی، جبکہ اسپیشل برانچ ایئرپورٹس، بس ٹرمینلز، فوڈ ٹرانسپورٹ حبز اور ریلوے اسٹیشنز پر سخت نگرانی برقرار رکھے گی۔ریسکیو سروسز نے بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو اور انخلا کے منصوبوں کو حتمی شکل دے دی ہے تاکہ فوری اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ تمام جلوسوں اور اجتماعات کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر سیکیورٹی اور نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔مراد علی شاہ نے تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کو ہدایت دی کہ تقریبات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو خصوصی ٹریفک مینجمنٹ پلان تیار کرنے اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو شہر بھر میں صفائی ستھرائی اور پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔مراد علی شاہ نے حکام کو حساس مقامات پر اضافی اہلکار تعینات کرنے اور نگرانی مزید بڑھانے کی ہدایت کی۔ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مذہبی اتحاد اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے کوششیں تیز کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
Read Next
2 دن ago
*سندھ کے 5 ہونہار طلبہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی کےلیے بھٹو اسکالرشپس جیت لیں*
5 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات؛وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ کاری بڑھانے پر اتفاق
5 دن ago
کراچی کا مستقبل ہماری مشترکہ کوششوں اور یکجہتی پر منحصر ہے،سید مراد علی شاہ
1 ہفتہ ago
سندھ اسمبلی نے دھرتی کی تقسیم کی سازش ناکام بنا دی،وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ
1 ہفتہ ago
صوبے کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کی کوششیں متفقہ طور پر مسترد،سندھ اسمبلی میں اہم قرارداد منظور
Related Articles
مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،کچے کی زمین کے سروے کےلئے 70 کروڑ 50 لاکھ روپے کی منظوری
2 ہفتے ago
*وزیراعلیٰ سندھ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں مجوزہ ترامیم کا جائزہ لینے کے لئے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی*
2 ہفتے ago




