*مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،پانی کی فراہمی، نکاسیٔ آب کی 16 اسکیموں کیلئے اضافی 8 ارب 82 کروڑ 40 لاکھ روپے منظور*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں مالیاتی، بنیادی ڈھانچے، توانائی، صحت، سیکیورٹی اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی، جن میں صوبے بھر میں پانی کی فراہمی اور نکاسیٔ آب کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 8 ارب 82 کروڑ 50 لاکھ روپے کے اضافی فنڈز اور کراچی کے لیے 11 ارب 19 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کے بڑے انفرااسٹرکچر منصوبے شامل ہیں۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی پیش کردہ کابینہ کمیٹی برائے مالیات کی سفارشات کے تحت کابینہ نے مالی سال 2025-26 کے دوران پانی کی فراہمی اور نکاسیٔ آب کے شعبے کی 16 سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) اسکیموں کے لیے 8 ارب 82 کروڑ 40 لاکھ روپے کے اضافی فنڈز کی منظوری دی۔اس رقم میں سے 6 ارب 20 کروڑ 60 لاکھ روپے اے ڈی پی بلاک الاٹمنٹ سے جبکہ 2 ارب 61 کروڑ 80 لاکھ روپے دیگر ترقیاتی الاٹمنٹ سے فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ انتظامی محکموں کو ہدایت کی کہ تمام ادائیگیاں مطلوبہ ضابطہ جاتی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد رواں مالی سال کے اندر یقینی بنائی جائیں۔

*کراچی میگا پروجیکٹس*

ایک اور اہم فیصلے میں کابینہ نے کراچی میگا پروجیکٹ کے تحت 11 غیر اے ڈی پی انفرااسٹرکچر اسکیموں کی منظوری دی جن کی مالی معاونت اے ڈی پی 2025-26 کے ’’نئی ترقیاتی اقدامات‘‘ کے فنڈ سے کی جائے گی۔ ان منصوبوں کی مجموعی تخمینہ لاگت 11 ارب 19 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے۔منظور شدہ منصوبوں میں کراچی کی اہم شاہراہوں اور ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی بہتری اور بحالی شامل ہے جن میں حاجی ابراہیم عیسیٰ روڈ، حاجی کیمپ روڈ، کورنگی لنک روڈ، میرین ڈرائیو سے منسلک کلفٹن کی سڑکیں، اسکیم 33 میں مہران اور پجیرو روڈز، کورنگی کریک ایئربیس روڈ، گلزارِ ہجری میں جناح ایونیو کی توسیع اور بلدیہ اسٹیڈیم روڈ منصوبہ شامل ہے جو شاہراہِ اورنگی کو حب ریور روڈ سے ملائے گا۔کابینہ نے نارتھ کراچی میں پاور ہاؤس چورنگی اور سرجانی ٹاؤن میں فور کے چورنگی پر دو بڑے پلوں کی تعمیر کی بھی منظوری دی تاکہ ٹریفک کی روانی اور شہری رابطوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ان منصوبوں کے آغاز کے لیے کابینہ نے رواں مالی سال کے دوران اے ڈی پی سے 56 کروڑ روپے جو مجموعی تخمینہ لاگت کا تقریباً پانچ فیصد بنتے ہیں، جاری کرنے کی منظوری دی۔

اس کے علاوہ کابینہ نے ’’دربار قلندر لعل شہباز، لعل باغ اور سوک سینٹر سیہون کی بحالی اور ترقی‘‘ کے عنوان سے 48 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی غیر اے ڈی پی اسکیم کی منظوری دی۔اس منصوبے کا مقصد حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار اور اس سے ملحقہ عوامی مقامات کے اطراف سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔ منصوبے کی لاگت کے پانچ فیصد کے مساوی 2 کروڑ 42 لاکھ 50 ہزار روپے رواں مالی سال کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے شہری بنیادی ڈھانچے کی بہتری، عوامی خدمات کے فروغ اور سرکاری فنڈز کے شفاف استعمال کے عزم کا اعادہ کیا۔

*قدرتی گیس رائلٹی کی صورت میں وصولی*

کابینہ نے صوبے کے آئینی حق 12.5 فیصد قدرتی گیس رائلٹی کو مکمل طور پر نقد رقم کے بجائے جزوی طور پر گیس کی صورت میں وصول کرنے کے نئے فریم ورک کی بھی منظوری دی۔یہ تجویز آئین کے آرٹیکل 161(1)(الف)، پیٹرولیم ایکٹ 1949 اور متعلقہ پیٹرولیم تلاش و پیداوار پالیسیوں اور قواعد کے مطابق تیار کی گئی ہے۔مجوزہ ہائبرڈ ماڈل کے تحت منتخب گیس فیلڈز کو اِن کائنڈ رائلٹی نظام پر منتقل کیا جائے گا جبکہ باقی فیلڈز کے لیے موجودہ نقد رائلٹی نظام برقرار رہے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس انتظام سے آمدنی میں اضافہ، توانائی کے تحفظ کو فروغ، مقامی صنعت کی معاونت اور مارکیٹ سے منسلک قیمتوں پر رائلٹی گیس کی مونیٹائزیشن ممکن ہوگی۔کابینہ کو بتایا گیا کہ نئے نظام کے ذریعے سندھ کو سالانہ 26 ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے سیکریٹری توانائی کی سربراہی میں بین المحکماتی کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی جو رائلٹی گیس کی جمع آوری، تقسیم، تجارتی استعمال، فروخت اور مونیٹائزیشن کے لیے جامع پالیسی فریم ورک تیار کرے گی۔کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 30 روز کے اندر اپنی سفارشات حتمی شکل دے کر کابینہ میں پیش کرے۔

*آئی ایچ ایس واجبات کی ادائیگی*

صوبائی کابینہ نے انٹیگریٹڈ ہیلتھ سروسز (آئی ایچ ایس) کو 39 کروڑ 50 لاکھ 19 ہزار روپے جاری کرنے کی منظوری دی تاکہ 111 آؤٹ سورس صحت مراکز، جن میں 105 رورل ہیلتھ سینٹرز (آر ایچ سیز) اور 6 تعلقہ ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال شامل ہیں، کے انتظام سے متعلق بقایا واجبات ادا کیے جا سکیں۔یہ واجبات مارچ 2016 سے اکتوبر 2021 تک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پیدا ہوئے تھے۔

بقایاجات کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے تفصیلی جانچ کے بعد 39 کروڑ 50 لاکھ 19 ہزار روپے واجب الادا قرار دیے جبکہ 11 غیر تصدیق شدہ ملازمین سے متعلق 32 لاکھ 64 ہزار روپے منہا کر دیے گئے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ نومبر 2024 میں کابینہ کی منظوری کے بعد 42 کروڑ 57 لاکھ 13 ہزار روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔

تازہ منظوری کے بعد آئی ایچ ایس کے تمام تصدیق شدہ بقایا واجبات ادا کر دیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے آئی ایچ ایس کو ہدایت دی کہ جاری شدہ اور موجودہ واجبات کا مکمل ریکارڈ تصدیق اور ریکارڈ کے لیے ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کو فراہم کیا جائے۔

*سندھ نرسنگ ورک فورس پالیسی 2026 تا 2040*

صحت کے شعبے میں کابینہ نے سندھ نرسنگ ورک فورس اسٹریٹجک پالیسی 2026 تا 2040 کی منظوری دی، جو بڑھتی ہوئی صحت کی ضروریات، آبادی میں اضافے، نئی بیماریوں اور صحت کی خدمات کے پھیلاؤ کے پیش نظر نرسنگ شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔پالیسی کا مقصد نرسوں کی کمی، تدریسی عملے کے فقدان، غیر مساوی تقسیم، بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں اور انتظامی مسائل کا حل فراہم کرنا ہے۔اس میں معیاری داخلہ نظام، بہتر کلینیکل تربیت، فیکلٹی کی ترقی، واضح کیریئر ترقی، لائسنسنگ اصلاحات اور جدید و خصوصی نرسنگ شعبوں کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کابینہ کو بتایا کہ سندھ میں اس وقت 34 ہزار 817 رجسٹرڈ نرسیں، دائیوں اور لیڈی ہیلتھ وزیٹرز موجود ہیں، جن میں تقریباً 23 ہزار نرسیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں فی ایک ہزار آبادی پر نرسوں کی شرح صرف 0.63 ہے جبکہ عالمی ادارۂ صحت کا معیار 3.33 ہے۔پالیسی کے تحت جدید نرسنگ کالجز، سمولیشن لیبارٹریز، طلبہ ہاسٹلز، نرسنگ ورک فورس انفارمیشن سسٹم اور متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری بھی قائم کی جائے گی۔ اس پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا، جس میں فوری اصلاحات سے لے کر بنیادی ڈھانچے اور افرادی قوت میں طویل المدتی سرمایہ کاری شامل ہوگی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام سے تربیت یافتہ نرسوں کی تعداد میں اضافہ، صحت کی خدمات کی فراہمی میں بہتری، افرادی قوت کی مؤثر منصوبہ بندی اور مریضوں کی نگہداشت کے معیار میں اضافہ ہوگا۔

*کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پروکیورمنٹ پلان*

بدلتی ہوئی سیکیورٹی ضروریات کے پیش نظر کابینہ نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے لیے 85 کروڑ 70 لاکھ 24 ہزار روپے کے نظرثانی شدہ پروکیورمنٹ پلان کی منظوری دی۔ کابینہ نے سی ٹی ڈی کی آپریشنل صلاحیت بڑھانے کے لیے خصوصی آلات اور خدمات کی خریداری کی خاطر نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کے ساتھ براہ راست معاہدے کی اجازت بھی دی۔

*شاہراہِ بھٹو روشنی منصوبہ*

کابینہ نے شاہراہِ بھٹو کے 4.5 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ سیکشن، جو سمو گوٹھ سے گزرتا ہے، پر لائٹ پولز اور شمسی توانائی سے چلنے والی اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کی منظوری دی۔ اس منصوبے پر 17 کروڑ 12 لاکھ 5 ہزار روپے لاگت آئے گی۔ یہ رقم آزاد انجینئر اور آزاد آڈیٹر کی تصدیق کے بعد وائی ایبلٹی گیپ فنڈ سے فراہم کی جائے گی۔کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کے اس فیصلے کی بھی توثیق کی کہ 25 سالہ کنسیشن مدت کے دوران شمسی لائٹس کی تبدیلی اور دیکھ بھال کی لاگت کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔

*تقرریاں*

کابینہ نے ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راشدہ صدیقی کی محکمہ قانون میں تین سال کے لیے بطور کنسلٹنٹ تقرری کی توثیق کی۔ کابینہ نے بیرسٹر سید غلام شبیر شاہ کی بطور پراسیکیوٹر جنرل سندھ تقرری کی بھی منظوری دی۔

*اعلیٰ تعلیم اور گورننس اصلاحات*

اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے حبیب یونیورسٹی ایکٹ 2012 میں ترامیم کی منظوری دی، جن کا مقصد ادارہ جاتی گورننس کو مضبوط بنانا اور یونیورسٹی کے تعلیمی ڈھانچے کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔کابینہ نے فاطمیہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کراچی کے مجوزہ چارٹر کی بھی منظوری دی، جس کے بعد فاطمیہ ہائر ایجوکیشن سسٹم کے تحت ایک نئی نجی شعبے کی یونیورسٹی کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔مجوزہ ادارے کا مقصد معیاری اعلیٰ تعلیم کی فراہمی، تحقیق اور جدت کو فروغ دینا اور مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ و تعلیمی مہارت کو ترقی دینا ہے۔

جواب دیں

Back to top button