وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا”میرا پیارا“پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے”میرا پیارا“پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکرکیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ویژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی”میرا پیارا“پراجیکٹ کودنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کاورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ”میرا پیارا“ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت(WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرام کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ”میرا پیارا“نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ”میرا پیارا“ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ”میرا پنجاب“سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ”میرا پنجاب“ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار اسپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا یاگیا۔ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق خصوصی افراد (Differently Abled) کے مجموعی طور پر 4,377کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 2,984افراد کو بازیاب کرا کے خاندانوں سے ملایا گیا۔ خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646ایف آئی آرز درج کیں۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو (CPB) میں 251اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی ہے۔

جواب دیں

Back to top button