ہل پارک سے متصل پلاٹ کی ملکیت اور قانونی حیثیت کی تصدیق کیلئے کراچی کا اقدام،عوامی املاک کے تحفظ کا عزم

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے عوامی اراضی کے تحفظ اور کراچی کے اہم تفریحی مقامات کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں ہل پارک سے متصل پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 میں واقع پلاٹ کی ملکیت اور قانونی حیثیت کی تصدیق کے لیے باضابطہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے،بلدیہ عظمیٰ کراچی کے علم میں لائی گئی معلومات کی بنیاد پر میئر کراچی نے وفاقی سیکریٹری، وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط ارسال کیا ہے جس میں پلاٹ نمبر39-G-4، بلاک 6، پی ای سی ایچ ایس، کراچی کی فوری اور جامع جانچ پڑتال کی درخواست کی گئی ہے، یہ اقدام کے ایم سی کے اس عزم کا مظہر ہے کہ عوامی املاک کو کسی بھی غیر قانونی قبضے یا بے ضابطہ اراضی معاملات سے محفوظ رکھا جائے اور شفافیت و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے،بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے کی گئی ابتدائی جانچ کے مطابق مذکورہ پلاٹ کا رقبہ تقریباً 500 مربع گز ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم پی ای سی ایچ ایس کے 1959ء کے اصل منظور شدہ ماسٹر پلان کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ پلاٹ نمبر39-G-4، اصل منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں موجود ہی نہیں ہے۔ مزید برآں منظور شدہ ریکارڈ میں درج پیمائشوں اور نقشہ جاتی ترتیب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ مقام پر زیادہ سے زیادہ تقریباً 200 مربع گز پر مشتمل ایک محدود بقایا زمین موجود ہو سکتی ہے، ان حقائق نے اس امر پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ 500 مربع گز پر مشتمل ایک علیحدہ پلاٹ بعض ریکارڈز میں کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا جا رہا ہے چونکہ یہ مقام ہل پارک سے متصل ہے جو کراچی کی اہم ترین عوامی تفریحی سہولتوں میں شامل ہے اور جس کی ملکیت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس ہے اس لیے یہ خدشہ موجود ہے کہ عوامی استعمال، کھلی جگہ یا پارک سے متعلق معاون سہولتوں کے لیے مختص اراضی کو کسی مرحلے پر تبدیل، ضم، ریگولرائز یا کسی اور طریقے سے نجی ملکیتی دستاویزات میں شامل کیا گیا ہو،حقائق کا تعین کرنے اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے درخواست کی ہے کہ مذکورہ پلاٹ سے متعلق تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے جن میں ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز ڈیڈز، منتقلیِ ملکیت کے ریکارڈ، میوٹیشن اندراجات، منظور شدہ اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز، سروے رپورٹس، حد بندی (ڈیمارکیشن) کی کارروائیاں اور زمین کے حوالے سے کی گئی کسی بھی ریگولرائزیشن، ذیلی تقسیم، انضمام یا ازسرِ نو تشکیل کی تفصیلات شامل ہوں، میئر کراچی نے یہ وضاحت بھی طلب کی ہے کہ پلاٹ کا رقبہ 500 مربع گز ظاہر کرنے کی قانونی بنیاد کیا ہے اور آیا ہل پارک، عوامی سہولتوں، کھلی جگہوں، یوٹیلٹی ایریاز یا سرکاری زمین کے کسی حصے کو اس پلاٹ میں شامل تو نہیں کیا گیا، اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عوامی اراضی اور تفریحی مقامات کراچی کے شہریوں کی امانت ہیں اور ان کا تحفظ قانون اور منصوبہ بندی کے ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کے ذریعے یقینی بنایا جانا چاہیے،انہوں نے کہا کہ کراچی کے پارکس، سہولتی مقامات اور عوامی اثاثے اس شہر کے شہریوں کی ملکیت ہیں، عوامی سہولتوں سے متصل زمین کی ملکیت، الاٹمنٹ یا استعمال سے متعلق کسی بھی ابہام کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام حقائق ریکارڈ پر لائے جائیں اور قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے، میئر کراچی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تصدیقی عمل اراضی کے انتظامی امور میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے اور عوامی املاک کو غیر قانونی قبضوں یا بے ضابطگیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہری اثاثوں کے تحفظ اور کراچی کے شہریوں کے حقوق کے دفاع کے لیے تمام قانونی اور انتظامی اقدامات جاری رکھے گی۔

جواب دیں

Back to top button