وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گندم کی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکام کو ہدایت دی ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے سے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مارکیٹ کو مؤثر انداز میں ریگولیٹ کیا جائے۔گندم کی مارکیٹ میں استحکام سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سرکاری امدادی قیمت اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق اور گندم کے ذخیرہ اندوزی کے ذریعے قیاس آرائی پر مبنی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا جائزہ لیا۔اجلاس میں صوبائی وزراء مکیش کمار چاؤلہ، سردار محمد بخش خان مہر، جام خان شورو، مخدوم محبوب الزمان، مشیر گیان چند اسرانی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری برائے وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری خوراک نائچ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔حکام نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ کابینہ کے 31 مارچ 2026 کے فیصلے کے مطابق 2025-26 کی فصل کے لیے گندم کی خریداری یکم اپریل 2026 سے شروع کی گئی تھی، جس کا ہدف 10 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا گیا تھا۔ حکومت نے امدادی قیمت 3 ہزار 500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی تھی جبکہ باردانہ ادائیگی 60 روپے فی 50 کلوگرام بوری رکھی گئی تھی۔اس اسکیم کے تحت سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام 2025 کے 3 لاکھ 32 ہزار 90 مستفیدین کو ہدف بنایا گیا تھا۔ تاہم 4 جون 2026 تک محکمہ خوراک 10 لاکھ میٹرک ٹن کے ہدف کے مقابلے میں صرف 79 ہزار 835.66 میٹرک ٹن گندم خرید سکا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کم خریداری کی بنیادی وجہ حکومتی امدادی قیمت اور مارکیٹ میں رائج قیمتوں کے درمیان فرق ہے۔
*قیاس آرائی اور غذائی تحفظ کو لاحق خطرات*
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مارکیٹ میں گندم دستیاب ہے، تاہم بعض ذخیرہ اندوز مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ قیاس آرائی پر مبنی یہ ذخیرہ اندوزی براہ راست صوبائی غذائی تحفظ اور قیمتوں کے استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہماری پہلی ذمہ داری سندھ کے عوام کے لیے ہے۔ گندم کی دستیابی، استطاعت اور تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہم کسی بھی ذخیرہ اندوز یا سٹے باز کو اپنے شہریوں کی بنیادی غذائی ضرورت کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے کسانوں اور صارفین دونوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ گندم محض ایک تجارتی جنس نہیں بلکہ ہمارے عوام کی بنیادی غذا اور سماجی استحکام کی بنیاد ہے۔ میری حکومت کاشتکاروں، فلور ملز، تاجروں اور وفاقی حکام کے ساتھ مل کر مستحکم فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ قیاس آرائی اور مصنوعی قلت کو شہریوں کے حقوق متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ریگولیٹری اقدامات سے متعلق باقاعدہ پیش رفت رپورٹس پیش کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام ہم سے فوری اور ذمہ دارانہ اقدامات کی توقع رکھتے ہیں، اور ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔






