*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کے ساتھ ورچوئل اجلاس*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی سے ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ بولورما امگابازار کے ساتھ ورچوئل جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی سید ناصر حسین شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم احمد شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، چیف ایگزیکٹو آفیسر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو اینڈ ایس سی) احمد صدیقی، پراجیکٹ ڈائریکٹر کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی عائشہ حمید اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ اور ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی ون کے نفاذ کی صورتحال اور کے فور آگمینٹیشن پراجیکٹ میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

واٹر بورڈ کے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ کلورینیشن سہولیات کی توسیع اور پانی کے معیار کی نگرانی کے بہتر نظام کے ذریعے تقریباً 20 لاکھ افراد کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی فراہم کرنے کے ہدف پر پیش رفت جاری ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کا پانی اور سیوریج کا انفراسٹرکچر صوبے کو درپیش اہم ترین عوامی خدمات کے چیلنجز میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے تحت تمام اصلاحاتی اور ترقیاتی اقدامات کو شفاف اور بروقت مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ پانی کی فراہمی، سیوریج خدمات اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف انفراسٹرکچر تعمیر کرنا نہیں بلکہ ایک جدید، مؤثر اور مالی طور پر مستحکم واٹر یوٹیلٹی قائم کرنا ہے جو کراچی کے عوام کو معیاری خدمات فراہم کرے۔اجلاس میں کے فور آگمینٹیشن پراجیکٹ کے 2.7 کلومیٹر طویل مشترکہ کوریڈور جزو پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ واٹر بورڈ حکام نے بتایا کہ 72 انچ اور 96 انچ قطر کی پائپ لائنوں پر کام جاری ہے اور منصوبے کی تکمیل اگست 2026 تک متوقع ہے۔ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے کراچی کے آبی شعبے میں اصلاحات کے نفاذ کے لیے سندھ حکومت کے عزم کو سراہا اور منصوبے کے اہم تقاضوں پر ہونے والی پیش رفت کا اعتراف کیا۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کسٹمر سروس سینٹرز، صبا نگر میں بحالی کے کام، میٹرنگ اقدامات اور متعدد آپریشنل سہولیات تکمیل کے قریب ہیں۔بھرتیوں اور ادارہ جاتی مضبوطی کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی کہ اہم تکنیکی اور انتظامی عملے کی بھرتی کا عمل تیز کیا جائے اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے بورڈ میں اراکین کی شمولیت جلد مکمل کی جائے۔

اجلاس کے اختتام پر مراد علی شاہ نے کراچی کے پانی اور نکاسی آب کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری، بہتر طرز حکمرانی اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے جامع تبدیلی لانے کے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

جواب دیں

Back to top button