وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت پانی سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کرے گی، جس میں سندھ طاس معاہدے، 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے اور ان پر عملدرآمد میں موجود خامیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔منگل کو کراچی میں منعقدہ پہلی آئی اے پی اور پی ایس او اے بین الاقوامی انشورنس کانفرنس 2026 کے اختتامی سیشن میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹاسک فورس اس حوالے سے ایک رپورٹ بھی تیار کرے گی کہ سندھ کو ممکنہ طور پر کن نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کو مسلسل اپنے مختص حصے سے کم پانی ملتا رہا ہے، انہوں نے بھارت کی آبی جارحیت کو پاکستان کے لیے ایک سنگین تشویش قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ہر صوبہ اپنے مقررہ پانی کے حصے کا حق دار ہے تاہم سندھ اور دو دیگر صوبے پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ پنجاب کے پاس اضافی پانی موجود ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ چولستان کی نہروں سے متعلق فیصلے پہلے ہی کیے جا چکے ہیں اور ان پر عملدرآمد جاری ہے۔ تاہم، سندھ کے اعتراضات دریائے جہلم سے منسلک جلال پور کینال کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ نے ٹیلی میٹری نظام اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بارہا تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی کابینہ کا اجلاس جمعرات کو متوقع ہے، جس میں ماہرین کی ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز پر غور کیا جائے گا۔گندم کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ سندھ نے رواں سال ریکارڈ 49 لاکھ ٹن گندم پیدا کی ہے، جبکہ پنجاب میں بھی گندم کی پیداوار اچھی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی سالانہ ضرورت تقریباً 17 لاکھ ٹن ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران 2 لاکھ ٹن سے زائد گندم برآمد کی ہے، جبکہ پنجاب حکومت بھی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ درآمدات کا سہارا لینے کے بجائے مقامی طور پر دستیاب گندم مارکیٹ میں جاری کرنے کو یقینی بنایا جائے۔سید مراد علی شاہ نے 2024 میں گندم کی درآمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کاشتکاروں کو نقصان پہنچا اور اگلی فصل کے چکر پر بھی اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے کاشتکاروں کے مفادات کا بھی تحفظ کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت مارچ میں نافذ کیا گیا ایندھن کی کھپت کا مقررہ حد کا نظام بدستور نافذ ہے جبکہ مزید فیصلے وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے۔لاپتا بچوں کے معاملے پر مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم اور اذیت کو پوری طرح سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو اپنی کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ صوبائی وزیر داخلہ ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور یقین دلایا کہ حکومت بچوں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
*پہلی آئی اے پی اور پی ایس او اے بین الاقوامی انشورنس کانفرنس 2026*
اس سے قبل پہلی آئی اے پی اور پی ایس او اے بین الاقوامی انشورنس کانفرنس 2026 کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے انشورنس انڈسٹری اور کانفرنس کے منتظمین کا تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں رجسٹرڈ تمام گاڑیوں کے لیے موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس لازمی قرار دے دی ہے۔ صوبائی موٹر وہیکل ترمیمی ایکٹ 2026 کے تحت ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والے تھرڈ پارٹی افراد کے اہل خانہ کو 7 لاکھ روپے کا انشورنس کور فراہم کیا جائے گا، جبکہ معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے تک ادا کیے جائیں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ مارچ 2026 سے ڈیجیٹل موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس پالیسیاں جاری کی جا رہی ہیں اور اب تک تقریباً 2 لاکھ گاڑیوں کو انشورنس کور فراہم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انشورنس کوریج میں وسعت، سڑکوں پر حفاظتی اقدامات سے متعلق بہتر آگاہی اور ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد سے مسافروں کے تحفظ میں بہتری آئے گی۔مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کو قدرتی آفات کے باعث ہونے والے نقصانات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے فصلوں کی انشورنس کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے ذریعے صوبائی حکومت فلاحی، صحت اور انشورنس کی سہولیات بھی فراہم کر رہی ہے، جن میں مفت یونیورسل ایکسیڈنٹ انشورنس اسکیم بھی شامل ہے۔ اس اسکیم کے تحت 18 سال اور اس سے زائد عمر کے شہریوں کے حادثے میں جاں بحق ہونے کی صورت میں ان کے قانونی ورثا کو ایک لاکھ روپے فراہم کیے جاتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ انشورنس انڈسٹری سے متعلق زیر التوا سیلز ٹیکس کے معاملات کا جائزہ لیا گیا ہے اور سندھ سیلز ٹیکس ایکٹ میں مطلوبہ ترامیم فنانس بل 2026 کے ذریعے متعارف کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور انشورنس کے شعبے کی معاونت کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔






