سندھ حکومت نے لینڈ ڈویلپمنٹ ایجنسیوں کے الاٹیز کو درپیش مسائل کے مستقل حل، قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سلسلے میں وزیر بلدیات سندھ و چیئرمین کابینہ کی لینڈ کمیٹی ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت کابینہ کی لینڈ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر سعید غنی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری سندھ لوکل گورنمنٹ، ڈائریکٹر جنرل کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے)، ڈائریکٹر جنرل حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایچ ڈی اے)، ڈائریکٹر جنرل سکھر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ حکومت کے ماتحت لینڈ ڈویلپمنٹ ایجنسیوں سے متعلق الاٹیز کی شکایات، زیر التواء معاملات، قبضوں، قانونی پیچیدگیوں اور متاثرین کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
جبکہ ان کے فوری اور دیرپا حل کے لیے مختلف تجاویز اور سفارشات پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران مختلف اداروں کے سربراہان نے اپنی اپنی کارکردگی، جاری آپریشنز اور متاثرین کے مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی الاٹی یا متاثرہ شہری کے ساتھ ناانصافی، زیادتی یا امتیازی سلوک ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ متاثرین کی جامع، حتمی اور مستند فہرست جلد از جلد مرتب کی جائے تاکہ ہر کیس کا میرٹ پر جائزہ لے کر متاثرین کو ان کا حق فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد صرف شکایات سننا نہیں بلکہ ان کا عملی اور فوری ازالہ یقینی بنانا ہے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کابینہ کی ذیلی لینڈ کمیٹی کا قیام پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے عوام دوست وژن اور وزیراعلیٰ سندھ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں عمل میں لایا گیا ہے تاکہ برسوں سے درپیش زمینوں، پلاٹس اور الاٹمنٹ سے متعلق مسائل کو شفاف انداز میں حل کیا جا سکے اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈی اے، ایل ڈی اے اور کے ڈی اے کی قیمتی سرکاری اراضی اور متعدد پلاٹس قبضہ مافیا سے واگزار کرائے جا چکے ہیں جبکہ باقی مقامات پر بھی بھرپور آپریشن جاری ہے اور یہ کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا کسی رعایت کے مستحق نہیں، سرکاری اراضی پر ناجائز قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور عوام کی ملکیت کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ متاثرین کے پلاٹس واگزار کرانے کے لیے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مکمل تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ متاثرین کو ان کی ملکیت واپس دلائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن جاری ہے وہ بلا تعطل جاری رہے گا اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا مداخلت کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ متاثرین کے حقوق کے تحفظ، سرکاری اراضی کی بازیابی اور لینڈ مافیا کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل، سخت اور بلاامتیاز کارروائیاں ناگزیر ہیں اور سندھ حکومت اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے متاثرین سے اپیل کی کہ وہ عدالتوں سے رجوع کرنے سے قبل متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں کیونکہ حکومت ان کی شکایات کے ازالے اور مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے ازالے میں غیر ضروری تاخیر، غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو اور انہیں بروقت انصاف اور ریلیف فراہم کیا جا سکے۔





