وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کے ویژن کے مطابق سندھ میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے اور کراچی سمیت پورے صوبے میں انفراسٹرکچر، سڑکوں، پانی اور صنعتی ترقی کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر سیکریٹری بلدیات سندھ، چیف ایگزیکٹو آفیسر واٹر کارپوریشن، منیجنگ ڈائریکٹر سالیڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، ڈائریکر جنرل کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) سمیت محکمہ بلدیات اور متعلقہ اداروں کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو سمیت جاری میگا پراجیکٹس سے کراچی کے عوام اور کاروباری طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا جبکہ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کی جانب سے پیش کی گئی
مختلف ترقیاتی تجاویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ کراچی میں اس وقت تقریباً 2000 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جبکہ کورنگی کے لیے 9 ارب روپے کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کی بڑی شاہراہوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبے ایف ڈبلیو او کے حوالے کیے گئے ہیں جبکہ شہر کے مختلف ٹاؤنز میں 109 سے زائد سڑکوں پر ترقیاتی کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں چالیس چھوٹے اور بڑے روڈ منصوبوں پر بھی عملی کام شروع ہو چکا ہے جس سے شہریوں کو سفری سہولتیں میسر آئیں گی۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صنعتی علاقوں کی ترقی سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور صنعتی شعبے کے لیے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی علاقوں کے لیے مختص 9 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز میں سے 2 ارب روپے صرف کورنگی کے لیے رکھے گئے تھے جبکہ ٹی پی فور منصوبے پر بھی صنعتوں کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے کام جاری ہے۔ انہوں نے واٹر کارپوریشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر کو ہدایت کی کہ کاٹی آفس میں پانی کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ کراچی دور دراز علاقوں سے پانی حاصل کرتا ہے، اس لیے پانی کی طلب اور رسد کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عظیم پورہ فلائی اوور کی تعمیر بھی جاری ہے جس سے ٹریفک کے دیرینہ مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے یلو لائن منصوبے کے حوالے سے ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ اہم پیش رفت کی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ خطاب کے دوران ناصر حسین شاہ نے بزنس کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ سندھ ریونیو بورڈ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے معاملات پر اپنی تجاویز حکومت کو فراہم کریں تاکہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے متعلق درپیش مسائل بھی سندھ حکومت کے ساتھ شیئر کیے جائیں تاکہ انہیں صدر آصف علی زرداری کے سامنے رکھا جا سکے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ کراچی کو پاکستان کا معاشی حب قرار دیا جاتا ہے لیکن اکثر تمام ذمہ داریاں سندھ حکومت پر ڈال دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے بعد اختیارات تمام صوبوں کو منتقل ہوئے ہیں، اس لیے وفاقی حکومت سے بھی سوال کیا جانا چاہیے کہ پی ایس ڈی پی میں سندھ کے لیے صرف تین سے چار فیصد بجٹ کیوں رکھا جاتا ہے جو اب کم ہو کر ایک سے دو فیصد تک محدود ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں کی حالت زار پر سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے حالانکہ نیشنل ہائی ویز وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہیں جبکہ دیگر صوبوں میں کئی اہم شاہراہیں وفاقی معاونت سے تعمیر کی جاتی ہیں۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کے قیام کے بعد 2022 میں بعض معاملات میں بہتری آئی تھی تاہم سندھ کو اب بھی اپنے جائز وسائل اور ترقیاتی فنڈز کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید ضرور کی جائے لیکن تعمیری انداز میں کی جائے کیونکہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 اور پھر 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے سندھ کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت بحالی اور تعمیر نو کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ بعض مخالفین یہ تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو صرف 2008 میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی ہمدردی کی بنیاد پر کامیابی ملی، تاہم پارٹی نے 2013، 2018 اور 2024 کے انتخابات میں بھی عوامی اعتماد حاصل کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو پہلے سے زیادہ نشستیں ملیں اور آئندہ 2029 کے انتخابات میں کراچی سے بھرپور کامیابی حاصل کرکے انتخابی میدان میں کلین سویپ کرے گی۔ تقریب میں صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات نے بھی مختلف شہری و صنعتی مسائل اجاگر کیے جبکہ وزیر بلدیات نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت کراچی کی ترقی، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، ٹریفک مسائل کے خاتمے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔






