پشاور بس ٹرمینل مکمل ہے مگر این ایچ اے راستے کیلئے این او سی جاری نہیں کر رہا،وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نےورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام میں محفوظ خوراک سے متعلق آگاہی اور ذمہ دارانہ رویوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام سے صحت بخش خوراک کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم گندم میں خود کفیل نہیں ہیں۔غذائی خود کفالت کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے، متعلقہ محکموں کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔آئندہ بجٹ میں محکمہ خوراک کا بجٹ بڑھایا جائے گا اور جدید گودام تعمیر کیے جائیں گے۔سال 2030 تک خیبرپختونخوا کئی شعبوں میں خود کفیل ہو جائے گا۔پنجاب کی جعلی حکومت نے خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی بند کی، بارہا خطوط کے باوجود شنوائی نہیں ہوئی۔جب 17 سیٹوں والوں کو اقتدار دیا جاتا ہے تو وہ عوام کے مفاد کا نہیں سوچتے۔سی آر بی سی منصوبے کے لیے صوبائی حکومت نے 3 ارب روپے مختص کیے مگر وفاق نے ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔

سی آر بی سی میں وفاق 80 فیصد فنڈنگ کا پابند تھا، پھر 65 فیصد پر آ گیا، مگر آخرکار بجٹ میں ایک روپیہ بھی مختص نہ کر سکا۔ناردرن بائی پاس منصوبے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے 4 ارب روپے کی بریج فنانسنگ کی ہے۔پشاور بس ٹرمینل مکمل ہے مگر این ایچ اے راستے کے لیے این او سی جاری نہیں کر رہا۔سوات ڈیم منصوبہ تیار ہے مگر غیر ملکی انجینئرز کے دورے کے لیے وفاق این او سی نہیں دے رہا۔خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، اس سے نفرتیں بڑھیں گی۔آئین کے مطابق گیس پیدا کرنے والے صوبے کا اس کے استعمال پر پہلا حق ہے۔صوبہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے مگر استعمال صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کی گیس بند کر رکھی ہے، متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔وفاق کی غلط پالیسیوں کی قیمت خیبرپختونخوا کے عوام ادا کر رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button