وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کا نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ اسلام آباد کا دورہ

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جناب امجد حسین نے آج اسلام آباد میں نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (NDRMF) کے دفتر کا دورہ کیا۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر (NDRMF) جناب عامر خان گورایہ نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو ادارے کی جانب سے گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر حصوں میں آفات کے خطرات میں کمی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جناب امجد حسین نے NDRMF کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گلگت بلتستان کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث درپیش سنگین خطرات اور چیلنجز سے مختلف قومی فورمز کو آگاہ کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جو نہایت قابلِ قدر ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs)، اچانک سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ گلیشیئرز کے تحفظ اور خطے کو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔وزیر اعلیٰ نے قومی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ حکومتِ گلگت بلتستان کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے میں تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں، ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں کی بروقت ڈریجنگ اور بحالی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ شدید سیلاب ہر سال رہائشی مکانات، زرعی اراضی، شاہراہوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت گلگت بلتستان جلد ہی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دے گی جو ترجیحی بنیادوں پر پائلٹ منصوبوں کی تجاویز تیار کرے گی۔ ان تجاویز کو NDRMF کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ ادارہ ان منصوبوں کے لیے تکنیکی معاونت اور مالی تعاون فراہم کر سکے۔انہوں نے حکومت گلگت بلتستان اور NDRMF کے درمیان قریبی رابطے اور مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باہمی اشتراک سے ہی آفات کے خطرات میں کمی لائی جا سکتی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے عوام اور بنیادی ڈھانچے کا مؤثر تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button