ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع،ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی کو تیز کیا جائے،وزیراعلیٰ سندھ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا اور ایک مشکل دور کے بعد مالی سال 26-2025 میں آنے والی صوبے کی مالی بحالی میں اس کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا۔ جائزے میں بتایا گیا کہ ایس آر بی نے ریونیو میں نمایاں اضافہ حاصل کیا ہے جس میں بقایاجات کی ریکارڈ وصولی بھی شامل ہے، جس کے باعث یہ ادارہ سندھ کی مالی استحکام کا ایک اہم ستون بن کر سامنے آیا ہے۔انہوں نے ایس آر بی کو ہدایت دی کہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کیا جائے، ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی کو تیز کیا جائے اور ڈیجیٹل اصلاحات کو مزید آگے بڑھایا جائے تاکہ ریونیو وصولیوں میں حالیہ پیش رفت کو مستحکم کیا جا سکے اور شفافیت میں اضافہ ہو۔ایس آر بی کے چیئرمین نے بتایا کہ فروری 2026 میں ادارے نے ریونیو میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جس کی بڑی وجہ طویل اور مسلسل کوششوں کے بعد بقایاجات کی مد میں 9.5 ارب روپے کی غیر معمولی وصولی تھی۔ فروری 2026 میں مجموعی وصولی 34.86 ارب روپے رہی جو فروری 2025 میں جمع ہونے والے 24.664 ارب روپے کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔ جولائی سے فروری کے دوران مجموعی وصولی 225.653 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال اسی مدت میں جمع ہونے والے 182.605 ارب روپے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ واصف میمن، منیجنگ ڈائریکٹر تھر کول انرجی بورڈ طارق علی شاہ، اسپیشل سیکریٹری خزانہ اصغر میمن، ماہر معاشیات اسد سعید، ایس آر بی کے کنسلٹنٹ مشتاق کاظمی اور محکمہ خزانہ و ایس آر بی کے دیگر حکام نے شرکت کی۔چیئرمین ایس آر بی واصف میمن نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ مالی سال 2024-25 میں ایس آر بی نے 306.6 ارب روپے کی تاریخی وصولیاں کیں، جن میں سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز (ایس ایس ٹی) کی مد میں 284.4 ارب روپے شامل ہیں۔ یہ رقم گزشتہ سال جمع ہونے والے 237 ارب روپے کے مقابلے میں 29.5 فیصد زیادہ ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ جون 2025 میں ایس آر بی کی تاریخ کی سب سے زیادہ ماہانہ وصولی ریکارڈ کی گئی جو 40.5 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ یہ ادارے کے قیام کے 15 سال بعد کسی بھی مہینے میں سب سے زیادہ وصولی تھی۔چیئرمین نے بتایا کہ فروری 2026 میں 9.5 ارب روپے کے بقایاجات کی غیر معمولی وصولی کے باعث ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا۔ فروری 2026 کی مجموعی وصولی 34.86 ارب روپے رہی جو فروری 2025 میں حاصل ہونے والے 24.664 ارب روپے کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔ جولائی سے فروری کے دوران مجموعی وصولی 225.653 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 182.605 ارب روپے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔وزیر اعلیٰ نے سندھ ریونیو بورڈ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ اس نظام کے اہم شراکت دار ہیں۔بریفنگ کے مطابق بندرگاہیں اور ٹرمینلز، ٹیلی کمیونیکیشن، بینکاری، فرنچائز، انشورنس اور کنٹریکٹ ایگزیکیوشن کے شعبے صوبائی ریونیو میں نمایاں حصہ ڈالنے والوں میں شامل رہے۔پورٹ، ایئرپورٹ اور ٹرمینل آپریٹرز کا شعبہ سب سے بڑا حصہ دار رہا جس نے 40.2 ارب روپے جمع کیے جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ 24.2 ارب روپے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔دیگر نمایاں کارکردگی دکھانے والے شعبوں میں بینکاری کا شعبہ 20.34 ارب روپے، فرنچائز سروسز 17.53 ارب روپے اور انشورنس 14.56 ارب روپے کے ساتھ شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ دس بڑے شعبوں نے مجموعی طور پر 155.6 ارب روپے ریونیو فراہم کیا جبکہ مزید 27 سروس سیکٹرز نے ایک ایک ارب روپے سے زیادہ ریونیو دیا جس سے ٹیکس نیٹ کے وسیع اور متنوع ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔سال کے دوران کئی نئے ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سافٹ ویئر اور آئی ٹی کنسلٹنسی سروسز میں 49 فیصد، سامان کی نقل و حمل میں 50 فیصد اور تکنیکی و انجینئرنگ کنسلٹنسی میں 44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔فنڈز اور اثاثہ جاتی انتظام کے شعبے نے پہلی مرتبہ بڑے ریونیو فراہم کرنے والے شعبوں کی فہرست میں جگہ بنائی اور 162 فیصد اضافے کے ساتھ 5.76 ارب روپے ریونیو جمع کیا۔ اس اضافے کی وجہ پاکستان میں اثاثہ جاتی انتظام کی صنعت کا پھیلاؤ اور بہتر معاشی حالات بتائے گئے۔علاقائی دفاتر کی کارکردگی بھی نمایاں رہی۔ حیدرآباد کمشنریٹ نے 20.9 ارب روپے جمع کیے جو 38 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، جبکہ سکھر اور لاڑکانہ کمشنریٹس نے مشترکہ طور پر 11 ارب روپے جمع کیے جو 41 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔چیئرمین ایس آر بی نے بتایا کہ یہ اضافہ زیادہ خطرے والے شعبوں کی بہتر نگرانی، ٹیکس دہندگان کو سہولت کی فراہمی میں توسیع، وصولی مہمات اور ڈیجیٹل نظام کے بہتر استعمال کے باعث ممکن ہوا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران ودہولڈنگ ایجنٹس کے ذریعے 48.42 ارب روپے جمع کیے گئے جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 37.43 ارب روپے تھی۔سرکاری اکاؤنٹس دفاتر میں فنانشل اکاؤنٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم (ایف اے بی ایس) اور ایس اے پی پلیٹ فارمز کے ذریعے سندھ سیلز ٹیکس کی کٹوتیوں کے خودکار نظام نے شفافیت اور قواعد کی پابندی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈ (ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور سندھ ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ (ایس ڈبلیو پی پی ایف) کے تحت وصولیوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف ونگ نے مالی سال 2024-25 میں 22.25 ارب روپے جمع کیے، جو نظرثانی شدہ ہدف 20.2 ارب روپے سے زیادہ ہیں اور قانونی و ضابطہ جاتی چیلنجز کے باوجود 55 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔حکام نے وزیر اعلیٰ کو ادارہ جاتی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا جن میں ایک مخصوص انٹیلی جنس، انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن ونگ کا قیام شامل ہے۔ اس اقدام کے بعد ایس آر بی پاکستان کی پہلی صوبائی ریونیو اتھارٹی بن گئی ہے جس نے ٹیکس فراڈ اور جعلی انوائسنگ کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی نفاذی یونٹ قائم کیا ہے۔ بورڈ نے آڈٹ نظام، ڈیجیٹل ڈیش بورڈز، شکایات کے انتظام کے نظام اور ای فائلنگ پلیٹ فارمز کو بھی مزید مضبوط بنایا ہے جن میں زرعی آمدنی ٹیکس کے لیے ای فائلنگ نظام بھی شامل ہے۔اس موقع پر سید مراد علی شاہ نے ایس آر بی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی ریونیو میں اضافہ بہتر طرز حکمرانی، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ریونیو بورڈ نے گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل پیش رفت دکھائی ہے اور 300 ارب روپے کی حد عبور کرنا ایک اہم کامیابی ہے جو صوبائی مالیات کو مضبوط بنانے میں خدمات کے شعبے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے ایس آر بی کو ہدایت دی کہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کیا جائے، غیر دستاویزی سروس فراہم کنندگان کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور ٹیکس چوری کے خلاف نفاذی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن اور ڈیٹا پر مبنی نگرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قواعد کی پابندی اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا مکمل استعمال ضروری ہے۔مراد علی شاہ نے حکام کو ہدایت دی کہ محکمہ خزانہ اور دیگر اداروں کے ساتھ رابطہ مضبوط بنایا جائے تاکہ صوبے میں پائیدار ریونیو نمو کو یقینی بنایا جا سکے اور مالی استحکام بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھائے بغیر ٹیکس نیٹ کو وسیع اور نظام کو مؤثر بنا کر ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔

جواب دیں

Back to top button