مفت سولر سکیم برائے گلگت بلتستان کے پہلے مرحلے کے تحت ضلع گلگت کے درخواست دہندگان کیلئے شفاف ڈیجیٹل قرعہ اندازی

نگراں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی مفت سولر اسکیم برائے گلگت بلتستان کے پہلے مرحلے کے تحت ضلع گلگت کے درخواست دہندگان کیلئے شفاف ڈیجیٹل قرعہ اندازی کا باضابطہ آغاز کر دیا۔اس سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کیلئے مفت سولر اسکیم ایک تاریخی اور انقلابی اقدام ہے جو خطے میں توانائی کے دیرینہ مسائل کے حل میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شفافیت، میرٹ اور مساوی مواقع کی پالیسی پر کاربند ہے، اسی لئے درخواست دہندگان کے انتخاب کیلئے جدید ڈیجیٹل قرعہ اندازی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے تاکہ ہر مستحق فرد تک اس منصوبے کے ثمرات بلا امتیاز پہنچ سکیں۔انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 58 میگاواٹ کے سولر سسٹمز فراہم کئے جائیں گے، جن میں سے 40 میگاواٹ گھریلو صارفین جبکہ 18 میگاواٹ چھوٹے کاروباروں اور آئی ٹی سے منسلک کاروباری اداروں کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ نگراں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سولر پینلز کراچی سے گلگت بلتستان منتقل کئے جا چکے ہیں اور منصوبے پر عملی پیش رفت تیزی سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف بجلی کے بحران میں کمی آئے گی بلکہ عوام کو ماحول دوست اور پائیدار توانائی کی سہولت بھی میسر آئے گی۔تقریب کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں صوبائی وزراء ساجد علی بیگ، انجینئر الطاف حسین اور سید عادل شاہ نے وزیر اعظم پاکستان کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ گلگت بلتستان کے عوام ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ متبادل توانائی کے فروغ سے نہ صرف بجلی کی کمی پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ ماحولیاتی تحفظ میں بھی مثبت کردار ادا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلوبل وارمنگ کے تناظر میں صاف اور قابل تجدید توانائی کے منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں اور یہ منصوبہ اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈویلپمنٹ مشتاق احمد نے اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سولر سسٹمز کی تقسیم کا عمل وزیر توانائی کی سربراہی میں مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے گا اور تمام اضلاع کو برابری کی بنیاد پر اس اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا کی بنیاد پر انتہائی مستحق خاندانوں کو سولر سسٹم کے ساتھ بیٹری اور انورٹر بھی مفت فراہم کئے جائیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے کی نگرانی اور شفاف تقسیم کیلئے پی ایم آر یو (پراجیکٹ مانیٹرنگ اینڈ ریفارمز یونٹ) کے تحت ایک جامع نظام وضع کیا گیا ہے۔ آج ضلع گلگت میں پہلی ڈیجیٹل قرعہ اندازی شفاف انداز میں مکمل کی گئی جبکہ اسی روز ضلع نگر، ہنزہ اور غذر میں بھی قرعہ اندازی کا عمل جاری ہے۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق آئندہ مرحلے میں استور اور دیامر میں قرعہ اندازی منعقد کی جائے گی، جس کے بعد بلتستان ڈویژن کے دیگر اضلاع میں بھی اس عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔نگراں صوبائی حکومت کے ترجمان شبیر میر نے کہا کہ اس اسکیم کا بنیادی مقصد درخواست دہندگان میں سولر سسٹمز کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہے تاکہ حقیقی مستحق افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت وزیر اعظم پاکستان کی مشکور ہے جنہوں نے خطے کے عوام کیلئے یہ اہم اور دیرپا منصوبہ شروع کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے سے نہ صرف بجلی کے بحران میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ صاف اور قابل تجدید توانائی کے فروغ سے خطے کی معاشی اور سماجی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

جواب دیں

Back to top button