نگران وزیراعلیٰ کا چھموگڑھ، جلال آباد امن معاہدے کا خیرمقدم، 8 محرم واقعے کے بعد تنازع جرگہ کے ذریعے حل

نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس ریٹائرڈ یار محمد نے چھموگڑھ اور جلال آباد کے درمیان امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں پائیدار امن، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے، اور امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین آئندہ بھی امن کے قیام کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔یہ تنازع گزشتہ سال 8 محرم الحرام کو چھموگڑھ کے مقام پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں علاقوں کے درمیان کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے۔ تاہم صوبائی حکومت کی سنجیدہ کاوشوں اور مسلسل رابطوں کے نتیجے میں معاملہ جرگہ کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا۔تنازع کے حل کے لیے دونوں جانب سے چھ، چھ رکنی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے باہمی مشاورت، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کو آگے بڑھایا۔ اس عمل میں کوہستان کے بزرگوں پر مشتمل جرگہ نے ثالثی کا اہم کردار ادا کیا، جبکہ ڈپٹی کمشنر گلگت نے بھی اس تمام عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں مدد دی۔اسی سلسلے میں آج وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں نگران وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں عمائدین جلال آباد، عمائدین چھموگڑھ، کوہستانی جرگہ کے اراکین اور نگراں کابینہ کے ممبران شریک ہوئے۔ اجلاس میں طے پانے والے معاہدے کے حوالے سے گفتو شنید ہوئی جسے تمام شرکاء کی موجودگی میں پڑھ کر سنایا گیا۔ وزیراعلیٰ نے جرگہ اور عمائدین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ فریقین نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مثبت کردار ادا کیا، جو قابل تحسین ہے۔ انہوں نے خاص طور پر جلال آباد اور چھموگڑھ کے عمائدین اور کوہستان کے بزرگوں کی مخلصانہ کاوشوں کو سراہا، جن کی دانشمندانہ کوششوں سے یہ معاہدہ ممکن ہوا اور علاقے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہوئی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ اتحاد، رواداری اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنا ناگزیر ہے، جبکہ حکومت ایسے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرے گی جو خطے میں استحکام اور ہم آہنگی کے فروغ کا باعث بنیں۔جرگہ کے اراکین نے بھی اس موقع پر امن اور مفاہمت کے حق میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے عوام مزید کشیدگی کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے تمام اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین نے بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مثبت مثال قائم کی ہے، جسے برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button