*لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس کا 30 سال بعد تزئین و آرائش کے بعدافتتاح کر دیا گیا.*

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے 30 سال بعد تزئین و آرائش کے بعد لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کر دیا، جس کے بعد اس اہم عوامی سہولت کو دوبارہ فعال بنا دیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، کے ایم سی سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی،ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، منتخب نمائندے، تنظیمی اراکین اور دیگر بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لانڈھی اور کورنگی کے عوام کو ماضی میں سازش کے تحت بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا، تاہم اب انہیں بہتری کی خوشخبری دینے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیت صاف ہو تو اللہ منزل آسان کر دیتا ہے اور یہی جذبہ انہیں عوامی مسائل کے حل میں کامیاب بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہر میں بلدیاتی حکومت کا بنیادی کام عوامی مسائل حل کرنا ہوتا ہے، مگر کراچی میں گزشتہ تیس سے چالیس سال کے دوران دانستہ طور پر حالات خراب کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 1993 کے بعد کئی ادوار آئے مگر مسائل جوں کے توں رہے، تاہم موجودہ انتظامیہ عملی اقدامات کر رہی ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ اسپورٹس کمپلیکس کے سوئمنگ پول کو بھی جدید خطوط پر بہتر بنایا گیا ہے اور یہاں کم فیس پر ممبرشپ فراہم کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیہ ٹاؤن میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے نمائندے 25 ایکڑ پر نیا اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور تمام ترقیاتی کام قانون کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ حب کینال سے متعلق منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے پانی کے حصے میں اضافے کی درخواست کر دی گئی ہے اور عوام کو چاہیے کہ افواہوں پر کم توجہ دیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ گورنر سندھ کا عہدہ ن لیگ کے سینئر کارکن کو دیا گیا ہے اور بعض رہنما میڈیا میں رہنے کے شوقین ہیں۔ انہوں نے ماضی کی سیاسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے شہر پر حکمرانی کی، ان کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کے مقام پر تاریخی اہمیت کے پیش نظر شہداء کی یادگاریں قائم کی جائیں گی جبکہ اسلامیہ کالج کے تاریخی گلوب کو محفوظ کر کے حسن اسکوائر منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی تاریخی مقام کے حوالے سے رہنمائی ہو تو بلدیہ عظمیٰ تعاون کرے گی۔ میئر کراچی نے کہا کہ انہیں اس لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور کراچی کے میئر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی مختلف رہنماؤں نے طویل عرصہ حکومت کی مگر مسائل حل نہ ہو سکے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ شہر کی ترقی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔اگر وہ دو قدم آگے بڑھیں گے تو میں چار قدم آگے بڑھوں گا، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام مشکلات کے باوجود کراچی کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button