نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد خان کی زیر صدارت کابینہ کااجلاس،وزراء کی بریفنگ

نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد خان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس کے بعد نگران وزیر اطلاعات غلام عباس، نگران وزیر داخلہ ساجد علی بیگ، نگران وزیر خزانہ و پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کرنل (ر) ابرار اسماعیل، نگران وزیر جنگلات حافظ شرافت الدین اور ترجمان برائے وزیراعلیٰ شبیر میر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نگران کابینہ نے مشرق وسطیٰ کی جنگ زدہ صورتحال میں بہترین اور مخلصانہ سفارت کاری کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے اور پاکستان کی میزبانی میں مذاکرات کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے گلگت بلتستان کابینہ نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔نگران وزراء نے کابینہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یکم مارچ کو گلگت بلتستان میں پیش آنے والے واقعات کے دوران سرکاری املاک کے نقصانات کے ازالے کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر 30 کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔اس کے علاوہ کابینہ نے گلگت بلتستان میں اہم شاہراہوں کی مرمت اور دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے 461 کلومیٹر کی 9 سڑکیں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان سڑکوں پر تعمیر ہونے والے ٹول ٹیکس سے گلگت بلتستان کے مقامی شہری مستثنیٰ ہوں گے۔کابینہ نے کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کا نام بدل کے کاونٹر ٹیرارزم یونٹ رکھنے کی منظوری کے ساتھ ساتھ پولیس میں 600 نئی اسامیوں پر بھرتیوں کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ اجلاس میں گریڈ 7 سے 14 تک اسامیوں کی بھرتیوں کے حوالے سے قواعد و ضوابط کی منظوری بھی دی گئی۔کابینہ نے اجلاس کے موقع پر یکم مارچ کو گلگت اور سکردو میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا۔ واقعات سے متعلق عدالتی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں قانون اپنی راہ لے گا۔ نگراں وزیر اعلی گلگت بلتستان نے واضح ہدایات جاری کیں کہ انتظامیہ عدالتی کمیشن کو اپنی فرائض کی انجام دہی کےلئے درکار تمام وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائے۔پریس کانفرنس میں کابینہ کی طرف سے واضح کیا گیا کہ یکم مارچ کے واقعات میں کسی بھی بے گناہ شخص کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔ صرف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ حکومت اور متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔وزراء نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بہتر اور بروقت سرکاری سہولیات کی فراہمی کے لیے "ایک چھت تلے تمام سہولیات” کے تصور پر مبنی "آسان خدمت سینٹر” کے قیام سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔ اس سینٹر میں ایک ہی جگہ پر مختلف سرکاری خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کا وفد جلد ہی گلگت بلتستان کا دورہ کرے گا۔اس کے علاوہ کابینہ نے پٹرولیم مصنوعات پر موٹر سائیکل سوار افراد کے لیے اعلان کردہ فیول سبسڈی کو مزید موثر بنانے کے لیے پالیسی میں بہتری لانے کے اقدامات کی منظوری بھی دے دی ہے۔

جواب دیں

Back to top button