کراچی(بلدیات ٹائمز)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سٹی کونسل کی حالیہ صورتحال، اپوزیشن کے رویے اور شہری معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ کونسل میں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی ہیں، تاہم چند افراد کی وجہ سے ایوان کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی منافقانہ روش کو مسترد کرتے ہیں اورپیپلز پارٹی ہمیشہ برداشت اور تحمل کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ جب اپوزیشن ارکان ایوان میں موجود تھے تو ماحول کشیدہ تھا، لیکن جیسے ہی وہ احتجاج کرتے ہوئے باہر گئے تو ماحول بہتر ہوگیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ حکومتی ارکان نے بھی بعض مواقع پر کوتاہیوں کی نشاندہی کی، تاہم شہر میں دوہرا معیار قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ بطور میئر کونسل کو جوابدہ ہیں اور ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے رکن کونسل نجمی عالم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف تاریخی پس منظر بیان کر رہے تھے، مگر اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے ادوار، بشمول 2001 کے بلدیاتی حالات کا ذکر کرنا ضروری ہے تاکہ حقائق سامنے آئیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن شور شرابہ کرکے ایوان کا ماحول خراب کرتی ہے جبکہ ان کے اپنے اتحادی بھی اس رویے سے تنگ آچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوہرے معیار کو بے نقاب کرنے کے لیے قرارداد پیش کی گئی۔میئر کراچی نے ضلع وسطی میں جیفکو گراؤنڈ کے افتتاح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ سندھ حکومت نے مکمل کیا مگر افتتاح کسی اور نے کیا جو کہ منافقت کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فراہم کیے جس کا اعتراف ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں آمریت کے ادوار میں منافقت کی سیاست ہوتی تھی مگر اب کراچی کے عوام نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ میئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس میں شادی بیاہ کی تقریبات اور عمارتوں کی کمرشلائزیشن کے فیصلے کس دور میں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاؤنز کی جانب سے اختیارات کی کمی کا شکوہ درست نہیں کیونکہ سندھ حکومت نے انہیں وسائل اور اختیارات فراہم کیے ہیں۔انہوں نے ایک ٹاؤن چیئرمین کے دعوے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 600 گلیاں بنانے کے دعوے کے باوجود باقاعدہ ٹینڈر جاری نہیں کیا گیا، جو شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔میئر کراچی نے اعلان کیا کہ وہ سٹی کونسل کے اجلاس کو برخاست نہیں کریں گے اور جمہوری عمل کو جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے بارش کے دوران اپوزیشن کی غیر موجودگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بعض علاقوں میں صورتحال بہتر تھی، اس کے باوجود بلاجواز تنقید کی گئی۔بل بورڈز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور جلد ٹاؤن سطح پر غیر قانونی بل بورڈز کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بطور پاکستانی ان کا سر فخر سے بلند ہے اور کافی عرصے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم، صدر مملکت اور عسکری قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خارجہ محاذ پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔پریس کانفرنس میں میئر کراچی نے واضح کیا کہ وہ شہر میں شفافیت، جوابدہی اور یکساں معیار کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔






