کراچی(بلدیات ٹائمز)بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کا عام اجلاس جمعہ کے روز کونسل ہال صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں منعقد ہوا، اجلاس کی صدارت میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کی، ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد اور میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر بھی اس موقع پر موجود تھے،اجلاس کے آغاز پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی عالمی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں مختلف جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے جنگ بندی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے پر حکومت پاکستان اور فوجی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا،پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ثالثی کا کردار ادا کیا اور بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں حصہ ڈالا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی بقا کے لیے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور آج بھی قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، پاکستان عالمی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ جنگ مسلمانوں کے خلاف سازش تھی، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر فیروز خان نے پاکستانی افواج اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ
ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے گا،پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر مبشر نے کہا کہ ایران کے معاملے پر پاکستانی قوم تشویش میں مبتلا رہی جبکہ ملک کے اندرونی مسائل کو بھی مل بیٹھ کر حل کرنے کی ضرورت ہے،پاک افواج اور حکومت کے مثبت اقدامات کو سراہتے ہیں، پیپلزپارٹی کے رکن نجمی عالم نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آئین دیا اور ایٹمی طاقت بنایا، شہید بھٹو نے اہم مواقع پر قومی فیصلے کیے جنہوں نے ملک کی سمت کا تعین کیا،اجلاس میں اتفاق رائے سے منظور کی گئی قرارداد کے ذریعے نازک اور حساس بین الاقوامی صورتحال میں حکومت پاکستان کی بروقت اور موثر سفارتی کوششوں سے ممکنہ عالمی کامیابی، معاشی بحران اور جنگی وسعت کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے پر صدرپاکستان جناب آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان جناب محمد شہباز شریف اور عسکری قیادت کی قائدانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا جبکہ اتفاق رائے سے منظور کی گئی ایک اور قرارداد کے ذریعے ایوان میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی مدبرانہ قیادت میں تمام سیاسی قوتوں کے اتفاق رائے سے 1973 ء کا متفقہ آئین تشکیل پانے کے پاکستان کی تاریخ کے سنہری باب کو خراج تحسین اور شہید بے نظیر بھٹو اور تمام جمہوریت پسند رہنماؤں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اجلاس میں مجموعی طور پر13 قراردادیں منظور کی گئیں جن میں مذکورہ قراردادوں کے علاوہ ایجنڈے میں شامل 11 قراردادیں شامل تھیں، اتفاق رائے سے منظور کی گئیں ان تمام قراردادوں کے ذریعے ایوان نے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں ویجی لینس اسکواڈ کے لئے 20 عدد الیکٹرک موٹر سائیکس کی بعداز خریداری کی منظوری، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام اسپتالوں میں زیر تربیت پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور ہاؤس جاب آفیسرز کو حکومتی نوٹیفکیشن کے تحت اضافہ شدہ شرح کے مطابق وظیفہ جولائی 2025 سے ادا کرنے کی منظوری، ڈسٹرکٹ ایسٹ، سینٹر ل اور ساؤتھ میں مختلف ترقیاتی اسکیموں کی پی سی۔I کی منظوری، سول پٹیشن کے تصفیے کے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی اور میسرز زبیر ایسوسی ایٹ کے درمیان بولٹن مارکیٹ سے متعلق معاہدے اور ترقیاتی کام کی منظوری، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ہیریٹیج ایمپریس مارکیٹ کی بحالی اور مارکیٹ میں گوشت، گروسری اور سبزیوں کے نئے سیکشن بنانے کے ساتھ مٹن اور بیف سیکشن کی منتقلی، ایلنڈر روڈ پر پراپرٹی کی آمدنی کا استعمال برائے ٹرم ڈپازٹ رسید میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی مقاصد کے لئے مختص کرنے کی منظوری شامل تھی، ترقیاتی اسکیموں کے نفاذ، خدمات کے تسلسل / تقرری، نگرانی اور تکنیکی معاونت کے لئے میسرز ای اے کنسلنٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کی خدمات کا استعمال / تقرر کرنے کی منظوری، کے ایم سی کے تحت مالی سال 2025-26 کے دوران سڑکوں، فٹ پاتھوں، پلوں، عمارتوں اور چڑیا گھر وغیرہ کی مرمت و دیکھ بھال اور بحالی کے حوالے سے کئے گئے خصوصی اقدامات کی منظوری 5 ملین روپے سے زائد کی ہو، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے سیکشن 80(1)(d) کے تحت Urgency میں کئے گئے انتظامی اور مالی کاموں کی Post Facto منظوری، بلدیہ عظمیٰ کراچی میں افسران و ملازمین کے لئے میڈیکل ہیلتھ ری ایمبرسمنٹ اور انشورنس پالیسی کی تجویز کی منظوری، قرارداد نمبر 127 مورخہ19 مئی 2025 کی روشنی میں تشکیل کردہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسپتالوں میں مختلف ٹیسٹوں کے لئے مقرر کردہ چارجز کی منظوری اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ میڈیا مینجمنٹ اور محکمہ پرنٹنگ پریس کو ضم کرنے اور محکمے کا نام تبدیل کرکے میڈیا پبلک ریلیشن اینڈ پبلیکشن کرنے کی منظوری شامل تھی، اجلاس کے دوران مختلف اراکین نے اظہار خیال کیا، بعدازاں اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔





