بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ساڑھے گیارہ ہزار ملازمین کیلئے ہیلتھ انشورنس کا اجراء، پاکستان کا پہلا بلدیاتی ادارہ جہاں میڈیکل انشورنس پالیسی نافذ کی گئی۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار ملازمین کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کردی گئی ہے جس کا باقاعدہ اجراء آج سے شروع کردیا گیا ہے، یہ پاکستان کا پہلا بلدیاتی ادارہ ہے جہاں میڈیکل انشورنس پالیسی نافذ کی گئی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں میڈیکل انشورنس کارڈ، سروس وہیکل اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر، کے ایم سی سٹی کونسل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، پیپلز لیبر بیورو کراچی ڈویژن کے صدر اسلم سموں، منتخب نمائندے اور کے ایم سی افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ملازمین کو علاج معالجے کے لیے سفارشات کروانی پڑتی تھیں اور ایمرجنسی یا اسپتال سے متعلق کیسز کی فائلیں مختلف محکموں سے ہوتی ہوئی میئر کے دفتر تک پہنچتی تھیں جس کے بعد اخراجات کی منظوری دی جاتی تھی،میئر کراچی نے کہا کہ صحت ایسا معاملہ ہے جہاں چند منٹ کی تاخیر بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے، اسی لیے موجودہ سٹی کونسل نے مزدور دوست پالیسی اپناتے ہوئے ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا،انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ انشورنس کے تحت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ملازمین ڈیڑھ لاکھ سے چھ لاکھ روپے تک کی طبی سہولیات حاصل کرسکیں گے جبکہ انہیں 200 اسپتالوں میں علاج کی سہولت میسر ہوگی جہاں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کروایا جاسکے گا، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شفافیت اور ٹرانسپیرنسی کے اصولوں کے تحت کام کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو ان کا حق بروقت مل سکے،میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی ورلڈ بینک اور حکومت کے اشتراک سے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو جدید اور آسان سہولیات فراہم کی جاسکیں،انہوں نے کہا کہ پراپرٹی موٹیشن اور این او سی کے حصول کے لیے شہریوں کو شدید مشکلات اور مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے جس کے باعث عوام کو غیر ضروری مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا،انہی مسائل کے حل کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ون ونڈو آپریشن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت شہری اب مختلف نوعیت کے این او سیز کے لیے دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے ویب سائٹ یا موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکیں گے اور این او سی حاصل کرسکیں گے،انہوں نے کہا کہ اب چالان اور دیگر متعلقہ امور بھی آن لائن انجام دیے جائیں گے جس سے شہریوں کو آسانی میسر آئے گی اور کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف محکموں کو کمپیوٹرز اور دیگر ضروری آلات اسی مقصد کے تحت فراہم کیے گئے ہیں تاکہ دفتری امور میں کسی قسم کی رکاوٹ باقی نہ رہے اور کوئی افسر یا ملازم خراب کمپیوٹر یا سہولیات کی کمی کا جواز پیش نہ کرسکے،انہوں نے کہا کہ شہری خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف محکموں کو نئی گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات اور پاکستان پیپلزپارٹی کے عوامی منشور پر عملدرآمد کرتے ہوئے شہر کی ترقی اور شہریوں کو جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے،یہ ہفتہ کراچی شہر کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کئی بڑے ترقیاتی منصوبے تکمیل کے مراحل میں داخل ہوچکے ہیں،انہوں نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر میں سولہ سے سترہ سال کا عرصہ لگا تاہم شاہراہ بھٹو ایک ایسا تاریخی منصوبہ ہے جسے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاقی حکومت کے بغیر لوکل گورنمنٹ کی سطح پر مکمل کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ 39 کلومیٹر طویل اور چھ رویہ شاہراہ بھٹو قیوم آباد سے کاٹھور تک تعمیر کی گئی ہے جس سے شہریوں کو آمدورفت کی جدید اور تیز ترین سہولت میسر آئے گی،انہوں نے بتایا کہ 22 مئی کو بلاول بھٹو زرداری شاہراہ بھٹو کا باضابطہ افتتاح کریں گے جو کراچی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا،انہوں نے کہا کہ شہر میں ثقافتی اور تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے بیچ ویو پارک میں سٹی میوزیم کے قیام کے لیے جگہ مختص کردی گئی ہے،اتوار کے روز وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھیں گے،انہوں نے کہا کہ آئندہ بارہ ماہ کے دوران کراچی میں ایک جدید سٹی میوزیم قائم ہوجائے گا جہاں شہریوں اور بیرون ملک سے آنے والے افراد کو کراچی کے تاریخی ورثے، ثقافت اور قدیم شناخت کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاسکے گی،میئر کراچی نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قائم کردہ پاکستان اسٹیل مل ملک کی صنعتی ترقی کی علامت تھی تاہم اسٹیل مل انتظامیہ کی جانب سے گلشن حدید اور اسٹیل ٹاؤن کو پانی کی فراہمی بند کیے جانے کے باوجود وفاقی حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا،انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پپری سے انفرااسٹرکچر تعمیر کیا جس کے بعد اب یومیہ 50 لاکھ گیلن پانی اسٹیل ٹاؤن اور گلشن حدید کے عوام کو فراہم کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ شاہراہ بھٹو کی تکمیل سے ہیوی ٹریفک کو متبادل راستہ میسر آئے گا جبکہ لیاری ایکسپریس وے ہیوی ٹریفک کے لیے کھولے جانے سے بھی ٹریفک مسائل میں نمایاں کمی آئے گی،انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض اپوزیشن رہنما حب کینال جا کر پروپیگنڈا کرتے ہیں تاہم بلدیہ عظمیٰ کراچی عملی کام پر یقین رکھتی ہے،انہوں نے بتایا کہ جہانگیر روڈ پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں جبکہ صہبا اختر روڈ کا منصوبہ بھی 30 جون تک مکمل کرلیا جائے گا،انہوں نے سیف الدین ایڈوکیٹ کو ایکٹنگ امیر مقرر ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے وہ اچھی ایکٹنگ کریں گے،انہوں نے کہا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کررہے ہیں جنہوں نے ماضی میں اس شہر کو مسائل کی دلدل میں دھکیلا۔

جواب دیں

Back to top button