ایل ڈی اے کے زیر اہتمام لاہور ماسٹر پلان 2050 بارے سٹیک ہولڈرز کا مشاورتی اجلاس منعقدہواجس میں ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق، سی ای او روڈا عمران امین،ڈی جی ڈبلیو ڈبلیو ایف حماد خان نقی،نادیہ قریشی SUS اربن یونٹ،چیف میٹروپولیٹن پلاننگ ایل ڈی اے فیصل مسعود قریشی،لاہور ہائی کورٹ کے نامزد کردہ ڈیپا رٹمنٹ اربن یونٹ اور ڈبلیوڈبلیوایف کے ماہرین،لاہور بچا و تحریک کے ماہرین آرکیٹکٹ کامل خان ممتاز اور لاہور ماسٹر پلان ریویو کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔ماسٹر پلان کے لیے کام کرنے والی کنسلٹنٹ فرم دارالہندسہ نے ماسٹر پلان کی موجودہ ورکنگ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ
ماسٹر پلان میں مستقبل میں آبادی میں ممکنہ اضافے، بے ہنگم پھیلاواور رہائشی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔شہری سہولیات، پبلک ٹرانسپورٹیشن، سفری و پیڈسٹرین ضروریات کے مطابق پلاننگ کی جا رہی ہے۔ماسٹر پلان میں لاہور کی ثقافت، پارک، گرینری اور پانی کے وسائل کو بھی پلاننگ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔اجلاس کو بتایاگیاکہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر لاہور ماسٹر پلان 2050 کو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف اور اربن یونٹ ماسٹر پلان کے تکنیکی پہلووں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی، سموگ، انڈسٹری کے بے ہنگم پھیلاواور سوشل و اکنامک چیلنجز کو مدنظر رکھاگیاہے۔اجلاس کو بتایاگیاکہ ماسٹر پلان میں ہائی رائز بلڈنگز، کمرشل و رہائشی ہائی رائز املاک کی تعمیر ، انفراسٹرکچر ضروریات کو مدنظر رکھاگیاہے۔
ویسٹ واٹر ڈسپوزل اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس پر حکومتی و نجی سطح پر خصوصی توجہ دی گئی ہےاوراس ماسٹر پلان میں نجی و سرکاری سیکٹرسے مشاورت اورتجاویز کو شامل کیا گیاہے۔مشاورتی اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے لاہور ماسٹر پلان 2050 بارے اپنی تجاویز بارے آگاہ کیااوربتایاکہ یہ ماسٹر پلان ہرقسم کی شہری ودیہی سہولتوں سمیت تحفظ ماحول کے لیے بھی کارآمدہوگا۔اجلاس میں نزیفہ بٹ ڈائریکٹر کلائمیٹ ڈبلیو ڈبلیو ایف، عثمان اکرم منیجر جی آئی ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف نے بھی شرکت کی۔






