میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کو سرسبز، ماحول دوست اور آلودگی سے پاک شہر بنانے کیلئے عملی اقدامات جاری ہیں، اربن فاریسٹ منصوبہ شہر میں ماحولیاتی بہتری، فضائی آلودگی میں کمی اور شہریوں کو بہتر اور صحت مند ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، منصوبے کے تحت ای بی ایم کازوے شاہراہِ بھٹو پر اب تک تقریباً 10 ہزار درخت لگائے جاچکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ایک لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جسے مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا،شجرکاری مہم کے تحت نیم، گلمہر، بارشی اور دیگر مقامی اقسام کے درخت لگائے جارہے ہیں جو کراچی کے موسم اور ماحول کیلئے موزوں ہیں، یہ منصوبہ نہ صرف شہر کے درجہ حرارت اور آلودگی میں کمی لانے میں مدد دے گا بلکہ آکسیجن لیول بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا،اربن فاریسٹ منصوبے سے پرندوں اور جنگلی حیات کو قدرتی ماحول میسر آئے گا جبکہ شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز ای بی ایم کازوے شاہراہ بھٹو پر اربن فاریسٹ منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سٹی کونسل کے اراکین، منتخب نمائندے اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جبکہ کراچی میں بڑھتی ہوئی گرمی گلوبل وارمنگ کے ممکنہ اثرات کی واضح نشاندہی کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ذمہ دار قیادت ہمیشہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہے اور شہری ماحول کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستان کے تمام ادارے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی بھی شہر میں اوپن اسپیسز پر بڑے پیمانے پر شجرکاری کر رہی ہے تاکہ آنے والے برسوں میں یہ پودے تناور درخت بن کر شہریوں کو بہتر ماحول فراہم کرسکیں، انہوں نے بتایا کہ شاہراہ بھٹو کے اطراف گرین زونز قائم کرنے کا فیصلہ بھی اسی وژن کا حصہ ہے اور دو ماہ قبل محکمہ پارکس نے اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا تھا،انہوں نے محکمہ پارکس کو ہدایت کی کہ کراچی کے ساتوں اضلاع میں اسی طرز کے گرین زونز قائم کیے جائیں، ان کا کہنا تھا کہ کورنگی میں نیم کے درخت لگائے گئے ہیں اور شہر بھر میں مزید شجرکاری کے منصوبے جاری رکھے جائیں گے، انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ صدقہ جاریہ کے طور پر پودے لگا کر گرین کراچی مہم میں حصہ لیں،
میئر کراچی نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شاہراہ بھٹو کی تکمیل کا وعدہ کیا تھا جو اب پورا ہونے جارہا ہے اور رواں ماہ شاہراہ بھٹو کا افتتاح کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے گھنٹوں کا سفر محض پچیس منٹ میں طے ہو سکے گا، انہوں نے کہا کہ شاہراہ بھٹو، بلوچ کالونی ایکسپریس وے، کورنگی ای بی ایم کازوے اور تاج حیدربرج جیسے اہم منصوبے شہریوں کو فراہم کیے جاچکے ہیں جو کراچی کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوں گے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر میں 80 ایکڑ پر محیط انکلوزیو سٹی قائم کیا جا رہا ہے جس کے لیے زمین مختص کردی گئی ہے اور جلد اس منصوبے پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا،یہ منصوبہ کراچی کے شہریوں کو جدید اور جامع سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں،انہوں نے کہا کہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ٹی پی ون منصوبے کی تکمیل کے لیے درکار فنڈز فراہم کیے،موجودہ سال ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال ہے اور آئندہ چھ ماہ کے دوران شہری متعدد اہم منصوبے مکمل ہوتے دیکھیں گے جس سے عوام کو درپیش مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی،انہوں نے 28 ویں ترمیم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اس ترمیم کا مسودہ ان کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات اور وزیر قانون پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اس نوعیت کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، ان کا کہنا تھا کہ مفروضوں پر بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک ذمہ دار سیاسی جماعت ہے اور ہر معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل کسی ایک صوبائی یا مقامی حکومت کے بس کی بات نہیں بلکہ تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ وہ اس شہر کے عوام کے ساتھ مخلص ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ وفاقی حکومت پورے ملک کا سوچے مگر اس شہر کو نظر انداز کرے جو ملک کی معیشت چلاتا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی سطح پر کوئی بے ضابطگی یا غلط کام سامنے آیا تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔





