وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے فوری عدالتی مداخلت کی درخواست کی ہے۔خط میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں ایک سیاسی جماعت کو انتخابی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات، انتخابی مہم اور پارٹی قیادت و کارکنان کی نقل و حرکت میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے، غیر قانونی گرفتار کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو اگر نہ روکی گئیں تو انتخابی عمل کی ساکھ اور شفافیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں واضح کیا کہ پاکستان کا آئین ہر سیاسی جماعت اور شہری کو آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات میں حصہ لینے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ ان آئینی اور جمہوری اصولوں سے انحراف نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔وزیراعلیٰ کی عدالت سے اہم گزارشات:🔹گلگت بلتستان میں انتخابات کے آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کی جائیں۔🔹سیاسی کارکنوں اور جماعتی قیادت کے خلاف غیر قانونی ہراسانی، گرفتاریوں اور پابندیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔🔹تمام سیاسی جماعتوں کو بلاامتیاز اپنی انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا مکمل حق دیا جائے۔🔹انتخابی عمل کے دوران آئینی اور جمہوری حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔🔹وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے عدالت سے اپیل کی کہ
وہ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور عوام کے انتخابی عمل پر اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری احکامات جاری کرے۔🔹انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عدلیہ کی بروقت مداخلت گلگت بلتستان میں شفاف، آزاد اور قابلِ اعتماد انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گی اور عوام کے جمہوری حقِ رائے دہی کا مکمل تحفظ ہوگا۔






