*وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ فنڈ مینجمنٹ ہاؤس بورڈ کا پہلا تاریخی اجلاس، ایکٹ 2021 کا تفصیلی جائزہ*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ فنڈ مینجمنٹ ہاؤس (ایس ایف ایم ایچ) بورڈ کا پہلا تاریخی اجلاس منعقد ہوا جس کے ذریعے اسے سرکاری طور پر صوبے کے نامزد سرکاری فنڈز کے انتظام کے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر قائم کر دیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ ہاؤس اس بات کو یقینی بنائے گا کہ عوامی پیسے کا ہر روپیہ شفافیت اور پیشہ ورانہ انداز میں اور سندھ کے عوام کے طویل مدتی مفاد کے لیے سرمایہ کاری کیا جائے۔اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، ارکانِ صوبائی اسمبلی شیراز شوکت راجپر اور سعدیہ جاوید، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بورڈ نے سندھ فنڈ مینجمنٹ ہاؤس ایکٹ 2021 کا جائزہ لیا، جو قانونی طور پر ایس ایف ایم ایچ کو نامزد سرکاری فنڈز کے لیے بنیادی ادارہ جاتی پلیٹ فارم کے طور پر اختیارات فراہم کرتا ہے۔بورڈ کے دائرہ اختیار میں اب ایس ایف ایم ایچ کے آپریشنز کی نگرانی اور اس کے سالانہ آپریشنل بجٹ کی منظوری، قواعد اور سرمایہ کاری پالیسیوں کا جائزہ لے کر انہیں حتمی منظوری کے لیے حکومت سندھ کو سفارشات پیش کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ تمام سرگرمیاں ایس ایف ایم ایچ ایکٹ کے مطابق اور منظور شدہ خطراتی حدود کے اندر رہیں۔اس وقت ایس ایف ایم ایچ 16 نامزد فنڈز کا انتظام کر رہا ہے جن میں سندھ صوبائی پنشن فنڈ (قائم 2002)، سندھ سوشل ریلیف فنڈ (قائم 2006) اور سندھ جنرل پروویڈنٹ انویسٹمنٹ فنڈ (قائم 2007) شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ گورننس اور رسک کنٹرولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنشنرز کی بچت، سماجی امدادی فنڈز اور سرکاری ملازمین کی جمع پونجی کے امین ہیں۔ میں ان فنڈز کے ساتھ قیاس آرائی یا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی اجازت نہیں دوں گا۔ انہوں نے بورڈ کو ہدایت کی کہ سیکیورٹی، شفافیت اور طویل مدتی منافع کو ترجیح دی جائے۔اجلاس کا ایک اہم نتیجہ مسودہ ایس ایف ایم ایچ انویسٹمنٹ پالیسی 2026 کی اصولی منظوری تھا، جو 2021 کی ہدایات کی جگہ لے گی اور “قابل اجازت” اور “ممنوعہ” سرمایہ کاری کی واضح تعریفوں کے ساتھ مزید مضبوط حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گی۔انویسٹمنٹ پالیسی 2026 کے تحت عوامی سرمایہ کے تحفظ کے لیے مخصوص حدود مقرر کی گئی ہیں، جن میں ایکویٹیز: کل فنڈ کے حجم کے 15 فیصد تک محدود ہوں گی جبکہ کسی ایک اسکرپ میں سرمایہ کاری 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔میوچل فنڈز: صرف ان اسکیموں تک محدود ہوں گے جن کی کم از کم ریٹنگ “اے ایم ٹو پلس پلس” ہو اور فنڈ کا حجم کم از کم پانچ ارب روپے ہو۔پابندیاں: کرنسی میں قیاس آرائی، اجناس کی تجارت اور غیر محفوظ ڈیریویٹوز جیسے اعلیٰ خطرے کے حامل اقدامات پر مکمل پابندی ہوگی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ نئی پالیسی کا مقصد سرکاری فنڈز کے انتظام کو پیشہ ورانہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد قلیل مدتی منافع نہیں بلکہ طویل مدتی مالیاتی استحکام ہے۔ یہ قواعد عوامی سرمایہ کی حفاظت کریں گے اور ہمیں مستحکم اور پائیدار منافع فراہم کریں گے۔ انہوں نے محکمہ خزانہ اور ایس ایف ایم ایچ کو ہدایت کی کہ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔سرمایہ کاری کے فیصلوں کے بروقت اور پیشہ ورانہ نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے بورڈ نے انویسٹمنٹ کمیٹی کی مجوزہ تشکیل کی منظوری دی جس کی سربراہی چیف سیکریٹری کریں گے۔یہ کمیٹی منظور شدہ پالیسی اور رسک حدود کے اندر سرمایہ کاری کی تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے گی، منظور شدہ بروکرز اور اثاثہ مینیجرز کے پینل کا انتظام اور وقتاً فوقتاً جائزہ لے گی اور پورٹ فولیو کی کارکردگی کو منظور شدہ معیارات کے مطابق مانیٹر کرتے ہوئے باقاعدگی سے بورڈ کو رپورٹ پیش کرے گی۔بورڈ نے انویسٹمنٹ کمیٹی کو بعض اہم آپریشنل اختیارات بھی تفویض کرنے کا فیصلہ کیا جن میں حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے منصوبوں کے لیے متعین حدود کے اندر بینک گارنٹیز اور اسٹینڈ بائی لیٹرز آف کریڈٹ جاری کرنے کا اختیار شامل ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کمیٹی باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے اور تمام فیصلوں کو دستاویزی شکل دے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے ڈیٹا کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور ہر سرمایہ کاری کا فیصلہ قابلِ سراغ اور قابلِ آڈٹ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فنڈ مینجمنٹ کے پیشہ ورانہ طریقہ کار عالمی بہترین معیارات کے مطابق ہونے چاہئیں۔بورڈ نے سندھ سوشل ریلیف فنڈ کے منافع میں اضافے کے امکانات پر بھی غور کیا۔ اس وقت یہ فنڈ روزانہ منافع دینے والے اکاؤنٹ میں 8.5 فیصد شرح سے منافع حاصل کر رہا ہے۔بورڈ نے ایک تجویز کا جائزہ لیا جس کے تحت ان رقوم کو قلیل مدتی ٹریژری بلز میں منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں اس وقت 10.40 فیصد سے 10.50 فیصد تک منافع دستیاب ہے۔وزیراعلیٰ نے اصولی طور پر اس تجویز کی منظوری دیتے ہوئے کہا، “سماجی امدادی فنڈز کو کم منافع والے اکاؤنٹس میں غیر فعال نہیں رہنا چاہیے۔ یہاں حاصل ہونے والا ہر اضافی روپیہ سندھ کے کمزور طبقات کی مدد کر سکتا ہے۔ تاہم ہم یہ اقدام مرحلہ وار اور اپنے رسک فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کریں گے۔”انہوں نے محکمہ خزانہ اور ایس ایف ایم ایچ کو ہدایت دی کہ ٹریژری بلز میں منتقلی کے لیے مرحلہ وار منصوبہ تیار کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ امدادی رقوم کی ادائیگی کے لیے درکار لیکویڈیٹی مکمل طور پر محفوظ رہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ایس ایف ایم ایچ بورڈ کے پہلے اجلاس میں منظور کی گئی اصلاحات صوبائی مالیات کو مضبوط بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا، “پنشن، پروویڈنٹ اور سماجی فنڈز کے انتظام کو پیشہ ورانہ بنانے کے ذریعے ہم سندھ کے لیے ایک مضبوط مالیاتی سہارا قائم کر رہے ہیں۔ اس سے ہمیں مستقبل کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور عوام پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔”اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے بورڈ کو ہدایت دی کہ پیش رفت سے متعلق سہ ماہی رپورٹس ان کے دفتر کو پیش کی جائیں۔

جواب دیں

Back to top button