*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ اافتتاح کردیا*

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے پیر کے روز چنیسر گوٹھ میں واقع گورنمنٹ گرلز اینڈ بوائز پرائمری، سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری اسکول میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر صوبہ بھر میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔یہ ہفتہ بھر جاری رہنے والی مہم 2 فروری سے 8 فروری تک صوبے بھر میں چلائی جائے گی۔اسکول آمد پر وزیراعلیٰ کا استقبال صوبائی وزیر محنت سعید غنی، صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کراچی آزاد خان، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری صحت طاہر سانگی اور ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے کوآرڈینیٹر شہریار میمن نے کیا۔ اس موقع پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف)، روٹری انٹرنیشنل کے نمائندے بشمول عزیز میمن اور دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ سے پولیو کا خاتمہ اجتماعی ذمہ داری اور صوبائی حکومت کا پختہ عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو فری سندھ ہمارا مشن ہے اور ہر سطح پر غفلت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ موجودہ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ایک کروڑ پانچ لاکھ سے زائد بچوں کو گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے سندھ کے 30 اضلاع کی 1490 یونین کونسلز میں 89 لاکھ گھروں کا دورہ کیا جائے گا جبکہ مہم میں 80 ہزار سے زائد پولیو ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ یونین کونسل کی سطح پر مہم کی سخت نگرانی یقینی بنائی جائے اور ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ تعاون سے انکار کرنے والے افراد یا گھروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں والدین کا تعاون فیصلہ کن ہے اور کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔فرنٹ لائن ورکرز کی حفاظت کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے 21 ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز ہمارے ہیرو ہیں اور ان کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔دورے کے دوران وزیراعلیٰ کلاس رومز میں بھی گئے جہاں انہوں نے خود بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور انہیں “پولیو ایمبیسیڈر” قرار دیتے ہوئے پٹیاں پہنائیں۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنی برادریوں میں پولیو سے آگاہی پھیلانے میں فعال کردار ادا کریں۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت دنیا میں صرف دو ممالک، پاکستان اور افغانستان، پولیو سے متاثر ہیں، جو قوم کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسین کے صرف دو قطرے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتے ہیں اور وائرس کے مکمل خاتمے کے سوا کوئی حل نہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے والدین پر زور دیا کہ وہ گھروں میں آنے والی ویکسینیشن ٹیموں سے مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی گھر پر پولیو ٹیم نہ آئے تو والدین قریبی بنیادی صحت مرکز یا مقامی انتظامیہ سے فوراً رابطہ کریں تاکہ بچوں کو قطرے پلائے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے تک مہم جاری رکھنا ضروری ہے اور جب تک ماحولیاتی نمونے وائرس سے پاک نہیں ہو جاتے، کوششیں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے عالمی ادارۂ صحت کی تصدیق کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ پولیو کے قطرے کسی بیماری کا سبب نہیں بنتے۔ انہوں نے علمائے کرام، اساتذہ، منتخب نمائندوں، سیاسی رہنماؤں اور سماجی شخصیات سے اپیل کی کہ وہ عوام کو ویکسینیشن پر آمادہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ انہوں نے میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو خطوط لکھے ہیں جن میں ہر گھنٹے کے نیوز بلیٹن میں پانچ سے دس سیکنڈ پولیو آگاہی کے لیے مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی فریضہ ہے اور میڈیا کا تعاون نہایت اہم ہے۔انہوں نے عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف، روٹری انٹرنیشنل اور تمام شراکت دار اداروں کا پولیو کے خلاف جدوجہد میں مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا اور اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان جلد اس موذی مرض سے نجات حاصل کر لے گا۔پولیو کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ والدین کا تعاون نہایت ضروری ہے اور اگر کوششوں کا تسلسل برقرار نہ رکھا گیا تو حالیہ کامیابیاں ضائع ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ میں 2018 میں پولیو تقریباً ختم ہو چکا تھا تاہم نگران حکومتوں کے دوران تعطل کے باعث 2019 سے 2021 کے درمیان کیسز میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ مسلسل مہمات کے نتیجے میں 2025 میں کیسز کم ہو کر 31 رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور یہ ایک قومی ذمہ داری ہے جس میں معاشرے کے ہر طبقے کو حصہ لینا ہوگا۔14 فروری کو جماعتِ اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمٰن کی متوقع احتجاجی کال کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ احتجاج کے بجائے انتخابات میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندے عوامی مینڈیٹ سے آتے ہیں اور شاہراہِ فیصل (شہیدِ ملت روڈ) سمیت اہم شاہراہوں کی بندش برداشت نہیں کی جائے گی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔گل پلازہ سانحے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے عدالتی انکوائری شروع کر دی ہے، ٹرمز آف ریفرنس حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اب چیف جسٹس کی کارروائی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ متاثرہ خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا، جن میں سے 26 چیک جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے فائر بریگیڈ کو مضبوط بنانے اور مربوط ڈیزاسٹر رسپانس نظام کے لیے جاری اقدامات کا بھی ذکر کیا۔وزیراعلیٰ نے ایسے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں نامناسب قرار دیا۔ انہوں نے نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) کے ساتھ مل کر غلط اندراج شدہ جنگلاتی اراضی کی واپسی پر تعاون کو سراہا اور کہا کہ سندھ گورننس اور شفافیت کے معیار قائم کرتا رہے گا۔گورننس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ احتساب ناگزیر ہے اور ناقص کارکردگی دکھانے والے کسی بھی افسر کو عہدے پر برقرار نہیں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اصل طاقت سوشل میڈیا کے تاثر میں نہیں بلکہ اللہ کے پاس ہے۔آخر میں وزیراعلیٰ نے صحتِ عامہ اور گورننس کو آپس میں جوڑتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے مسلسل مہمات اور اجتماعی ذمہ داری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مہم ایک قومی فریضہ ہے اور بچوں کے تحفظ اور معاشرے کی خدمت کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button