وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے معذور افراد کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہارتوں کی ترقی، تعلیم اور روزگار کے ذریعے بااختیار بنانا حکومتِ سندھ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے یہ بات کورنگی میں ناؤ ڈبلیو پی ڈی پی کے مراکز میں منعقدہ معذور افراد کی گریجویشن تقریب 25-2024 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سیکریٹری محکمہ بااختیاری برائے معذور افراد (ڈی ای پی ڈی) طحہٰ فاروقی، ناؤ ڈبلیو پی ڈی پی کے صدر امین ہاشوانی، چیف ایگزیکٹو آفیسر عمیر احمد، جنرل منیجر فاطمہ جمیل اور دیگر بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ تقریب ہنرمند پروگرام کے تحت منعقد کی گئی جو محکمہ بااختیاری برائے معذور افراد، حکومتِ سندھ اور ناؤ ڈبلیو پی ڈی پی کے اشتراک سے چلایا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کی مالی معاونت ڈی ای پی ڈی کر رہا ہے اور اس کا مقصد معذور افراد کو خودمختار اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حکومتِ سندھ کی معاونت سے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 65 ہزار سے زائد معذور افراد نے براہِ راست استفادہ حاصل کیا جبکہ ناؤ ڈبلیو پی ڈی پی کے ساتھ مشترکہ اقدامات کے نتیجے میں صوبے بھر میں 3 لاکھ 25 ہزار سے زائد افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئی۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارا مقصد معذور افراد کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانا اور انہیں معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ کے تمام ڈویژنز میں 10 مراکزِ امتیاز قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہنرمند پروگرام کے تحت 4 ہزار 200 سے زائد معذور افراد نے مہارتوں کی تربیت مکمل کی، جبکہ 1 ہزار 700 سے زائد افراد کو 22 مختلف صنعتوں میں روزگار فراہم کیا گیا ہے۔صنفی شمولیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہنرمند پروگرام کے ہر تین گریجویٹس میں سے ایک خاتون معذور ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مہارتوں کی تربیت اور روزگار کے اقدامات میں صنفی شمولیت کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ اس وقت سندھ کے پانچ خصوصی تعلیمی اسکولوں میں 500 سے زائد خصوصی بچے زیرِ تعلیم ہیں جس سے تعلیم سے مہارتوں کی ترقی اور پھر روزگار تک مضبوط ربط قائم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کی کامیابی کی عکاس ہے جس کے ذریعے شراکت دار اداروں کے تعاون سے ڈی ای پی ڈی نے معذور افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ معذور افراد کو بااختیار بنانے کا سندھ کا ماڈل دیگر صوبوں میں بھی پذیرائی حاصل کر رہا ہے جبکہ حکومت اور شراکت دار اداروں کے درمیان مؤثر رابطے سے ترقیاتی اقدامات کے دائرہ کار اور معیار میں بہتری آئی ہے اور آزمائشی منصوبے پائیدار نظامی اقدامات میں تبدیل ہو رہے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ معذور افراد کے لیے نئی مہارتوں کی تربیت اور روزگار کی سہولیات شہید بینظیر آباد، اسلام کوٹ اور کیماڑی میں قائم کی جائیں گی تاکہ شمولیتی مواقع تک رسائی کو مزید وسعت دی جا سکے۔ادارہ جاتی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ یہ محکمہ پہلے خصوصی تعلیم کا محکمہ کہلاتا تھا، تاہم 2017 میں اسے محکمہ بااختیاری برائے معذور افراد (ڈی ای پی ڈی) کا نام دیا گیا تاکہ زیادہ شمولیتی اور حقوق پر مبنی نقطۂ نظر کی عکاسی ہو سکے۔گریجویٹ طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے والدین اور ناؤ ڈبلیو پی ڈی پی کی کوششوں کو سراہا اور سندھ بھر میں سی آرٹس مراکز کے قیام کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مراکز گلستانِ جوہر اور کورنگی میں قائم کیے گئے جس کے بعد شہید بینظیر آباد، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں بھی نئے مراکز قائم کیے گئے۔وزیراعلیٰ نے حکومت کے اسسٹِو ڈیوائسز پروگرام کے بارے میں بتایا کہ اس سال معذور افراد کو معاون آلات فراہم کرنے کے لیے تقریباً 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی سمیت مقامی شراکت داروں کو معاون آلات کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے شامل کیا گیا ہے۔مراد علی شاہ نے شہید بھٹو ایکسپریس وے کے قریب ایک انکلیوسِو سٹی کی تعمیر کا بھی اعلان کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ ان کی حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس انکلیوسِو سٹی میں ناؤ ڈبلیو پی ڈی پی جیسے اداروں کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے مستقبل میں معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے اور ہمارا مشن یہ ہے کہ معذور افراد کو معاشرے کا فعال اور بااختیار رکن بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے تمام شراکت دار اداروں اور متعلقہ فریقین کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومتِ سندھ معاشرے کی بہتری اور سب کے لیے شمولیت کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔گریجویشن تقریب کے دوران مختلف صلاحیتوں کے حامل کئی افراد نے اپنی کامیابی کی کہانیاں بھی بیان کیں، جنہیں وزیراعلیٰ نے سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان میں کسی نہ کسی حد تک کوئی کمی ہوتی ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم معذور افراد کو بااختیار بنائیں تاکہ وہ زیادہ مکمل اور خودمختار زندگی گزار سکیں۔ آخر میں وزیراعلیٰ نے گریجویٹس میں اسناد اور ایوارڈز تقسیم کیے۔






