سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد،متعدد منصوبوں کی منظوری

سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس کمیٹی کے کنونئیر اور صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء سعید غنی، ضیاء الحسن لنجار، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی،

اجلاس میں صوبے کی مجموعی ترقی، تعلیمی بہتری، شہری سہولیات اور عوامی فلاح سے متعلق اہم مالی فیصلے کیے گئے، اجلاس میں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ایک تاریخی ہیریٹیج عمارت کی خریداری کی منظوری دی گئی جسے سندھ کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور شہر کی تاریخی شناخت کے لیے اہم اقدام قرار دیا گیا، اجلاس میں صوبے کی تین بڑی جامعات آئی بی اے، این ای ڈی اور مہران یونیورسٹی کے 35 ہزار طلبہ و طالبات کو پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام کے تحت جدید آئی ٹی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے 900 ملین روپے کی منظوری دی گئی تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اینڈ رورل ڈپارٹمنٹ کے تحت ضلع عمرکوٹ میں 100 سولر واٹر پمپس کی تنصیب کے لیے بلاک ایلوکیشن کی 25 فیصد رقم یعنی 100 ملین روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی جس سے دیہی علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، اجلاس میں ضلع ٹنڈو الہیار میں واٹر سپلائی اسکیم الٹرا فلٹریشن پلانٹ اور ڈرینج سسٹم کی تنصیب کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی جسے عوامی صحت کے مسائل کے حل کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا، اجلاس میں یونیورسٹی آف سندھ کے چھ بوائز، پانچ گرلز اور ایک اساتذہ ہاسٹل میں سیوریج، الیکٹریکل اور دیگر ترقیاتی کاموں کے فوری آغاز کے لیے نان اے ڈی پی اسکیم کے تحت 100 ملین روپے کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی، سکھر واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے لیے تین سالہ گرانٹ کے تحت مالی معاونت پر غور کرتے ہوئے مالی سال 2025-26 کے لیے 339 ملین روپے کی منظوری دی گئی تاکہ شہر میں پانی اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے، اجلاس میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی 52 ترقیاتی اسکیموں کی منظوری کی درخواست بھی منظور کر لی گئی جن کے فنڈز پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں، کراچی میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے ڈی آئی جی ٹریفک کی سفارش پر ٹریفک سگنلز کی درستگی، روڈ مارکنگ اور دیگر اقدامات کے لیے 100 ملین روپے فوری جاری کرنے کی منظوری دی گئی تاہم سیکریٹری سروسز کو ہدایت کی گئی کہ کمشنر کراچی کی سمری کو ازسرنو جامع انداز میں پیش کیا جائے جبکہ وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت دی کہ ٹریفک مینجمنٹ، انجینئرنگ اور متعلقہ اداروں کو ایک چھتری تلے لا کر مربوط نظام کے تحت کام کیا جائے تاکہ شہریوں کو حقیقی ریلیف مل سکے، اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، تعلیمی شعبے کی مضبوطی اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے اور عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button